کینیڈا میں مہنگائی 3.2 فیصد تک پہنچ گئی، پیٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
اوٹاوا ;
کینیڈا میں مہنگائی کی شرح مئی کے دوران بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ شماریات کینیڈا (Statistics Canada) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ ایندھن یعنی پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور خوراک کی مہنگائی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ شعبوں میں قیمتوں میں استحکام یا سست روی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مجموعی افراطِ زر کو ایک بار پھر اوپر دھکیل دیا ہے، جس سے عام صارفین کے اخراجات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
مہنگائی میں سب سے بڑا کردار پیٹرول کی قیمتوں نے ادا کیا، جو سالانہ بنیاد پر 33.2 فیصد بڑھ گئیں۔ یہ اضافہ اپریل کے 28.6 فیصد اضافے سے بھی زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی اور ممکنہ رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کینیڈا میں بھی ایندھن مہنگا ہوتا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
خوراک کی مہنگائی نے گھریلو بجٹ متاثر کر دیا
رپورٹ کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ خاص طور پر تازہ پھل اور سبزیاں مہنگی ہو گئی ہیں۔
- تازہ پھلوں کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 5.3 فیصد بڑھیں
- تازہ سبزیوں کی قیمتیں 9 فیصد تک بڑھ گئیں
- ٹماٹر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جو 45.2 فیصد تک پہنچ گیا
ماہرین کے مطابق اس اضافے کی وجوہات میں خراب موسمی حالات، فصلوں کی کم پیداوار اور بین الاقوامی سپلائی چین میں مسائل شامل ہیں۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میکسیکو میں فصلوں کی کم بوائی اور تجارتی پالیسیوں نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔
ماہانہ بنیاد پر سبزیوں کی قیمتوں میں 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 2008 کے بعد مئی کے مہینے میں سب سے بڑا اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عام صارفین کے گروسری بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔
مجموعی خوراکی مہنگائی 4.3 فیصد تک پہنچ گئی
خوراک کی مجموعی مہنگائی بڑھ کر 4.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس نے گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ عام شہریوں کے لیے روزمرہ اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھنے سے معاشی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ بنیادی ضروریات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی مصنوعات بھی مہنگی
مہنگائی کی ایک اور غیر متوقع وجہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر آلات، سافٹ ویئر اور دیگر ٹیکنالوجی اشیاء کی قیمتوں میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
شماریات کینیڈا کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ کمپیوٹر میموری، RAM اور SSD جیسے اجزاء کی بڑھتی ہوئی طلب ہے، جس کا تعلق عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) ڈیٹا سینٹرز کی توسیع سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے سپلائی پر دباؤ ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں اوپر گئی ہیں۔
رہائشی اخراجات میں نسبتاً استحکام
رپورٹ کے مطابق رہائشی اخراجات (Shelter Costs) میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے اور یہ سالانہ بنیاد پر صرف 1.7 فیصد رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ شعبہ بھی تیزی سے بڑھتا تو مجموعی مہنگائی کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی۔
اسی طرح گاڑیوں، گھریلو آلات اور دیگر پائیدار اشیاء کی قیمتوں میں بھی نسبتاً سست روی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے مہنگائی کے دباؤ کو کسی حد تک کم کیا ہے۔
ماہرین کی رائے اور آئندہ صورتحال
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگرچہ مجموعی مہنگائی 3.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، لیکن کچھ بنیادی پیمانے، جن میں غیر مستحکم اشیاء کو نکال کر دیکھا جاتا ہے، تقریباً 2 فیصد کے قریب ہیں، جو مرکزی بینک کے ہدف کے مطابق ہیں۔
رائل بینک آف کینیڈا کی ماہر اقتصادیات کے مطابق مہنگائی میں یہ اضافہ مکمل طور پر یکساں نہیں بلکہ مخصوص شعبوں، خاص طور پر توانائی اور خوراک، تک محدود ہے۔
تاہم بی ایم او کے ماہر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کا 3 فیصد سے اوپر جانا تشویش ناک ہے، کیونکہ اس سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے اور معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ ان کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔
مجموعی طور پر کینیڈا میں مہنگائی کی حالیہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ کچھ شعبوں میں استحکام ہے، لیکن پیٹرول اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اگر توانائی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں مہنگائی میں کچھ کمی کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال اب بھی عام شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

