کارنی حکومت کا نیا قانون منظور، کابینہ کو ممنوعہ زرعی ادویات کے استعمال کی اجازت دینے کا اختیار \
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے زرعی ادویات (پیسٹی سائیڈز) کے استعمال سے متعلق قوانین میں ایک بڑی اور متنازع تبدیلی منظور کر لی ہے، جس کے تحت وفاقی کابینہ کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ بعض ایسے زرعی کیمیکلز کے استعمال کی اجازت دے سکے جنہیں ہیلتھ کینیڈا نے صحت یا ماحول کے لیے غیر محفوظ قرار دیا ہو۔
یہ تبدیلی بل سی-30 (Bill C-30) کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جسے جمعرات کے روز ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری مل گئی۔ پارلیمنٹ کے موسمِ گرما کے وقفے سے قبل اس قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ بل سی-30 کا زیادہ تر حصہ وفاقی حکومت کی بہاری اقتصادی اپ ڈیٹ میں شامل مالیاتی اقدامات سے متعلق ہے، تاہم اس کے اندر پیسٹ کنٹرول پروڈکٹس ایکٹ (Pest Control Products Act) میں اہم ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں، جنہوں نے ماہرین، ماحولیاتی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
کابینہ کو خصوصی اختیارات
نئے قانون کے تحت وزیر اعظم مارک کارنی کی کابینہ کو اختیار حاصل ہوگا کہ اگر وہ کسی مخصوص زرعی دوا کو ملک کی معاشی سلامتی یا قومی غذائی تحفظ کے لیے ضروری سمجھتی ہے تو اس کے استعمال کی منظوری دے سکتی ہے، چاہے متعلقہ دوا کے بارے میں ہیلتھ کینیڈا نے منفی رائے ہی کیوں نہ دی ہو۔
قانون میں “معاشی سلامتی” اور “غذائی تحفظ” کی واضح تعریف شامل نہیں کی گئی، جس کے باعث ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اختیارات بہت وسیع اور غیر واضح ہیں۔
اس کے علاوہ اگر کسی علاقے میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچانے والے کیڑوں یا بیماریوں کا خطرہ ہو تو کابینہ کسی ایسی دوا کے استعمال کی اجازت بھی دے سکتی ہے جس کی منظوری صحت کے وزیر پہلے مسترد کر چکے ہوں۔ ایسی صورت میں متعلقہ دوا کو چھ برس تک استعمال کیا جا سکے گا۔
ماہرین اور ماحولیاتی تنظیموں کی شدید تنقید
کینیڈا بھر کی متعدد ماحولیاتی اور صحت عامہ کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ 13 جامعات کے ماہرین نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اسے گزشتہ کئی دہائیوں میں زرعی ادویات کے ضوابط میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔
کینیڈین ایسوسی ایشن آف فزیشنز فار دی انوائرمنٹ سے وابستہ معروف ماہرِ صحت ڈاکٹر ٹریور ہینکاک نے کہا کہ یہ فیصلہ سائنسی اصولوں کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں پہلے سے ایک مؤثر نظام موجود ہے جو زرعی ادویات کی جانچ کرتا ہے اور عوامی صحت اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کابینہ سائنسی فیصلوں کو نظر انداز کرے گی تو اس سے عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر ہینکاک کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ موجودہ نظام میں ایسی کیا خامی تھی جس کی وجہ سے ان تبدیلیوں کی ضرورت پیش آئی۔
سینیٹر روزا گالویز کے تحفظات
ماحولیات اور انسانی صحت کے امور کی ماہر سینیٹر روزا گالویز نے بھی قانون پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو سائنسی اداروں کے اختیارات کو محدود کر سکتی ہے۔
انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زرعی ادویات کے استعمال اور ان کے اثرات کے بارے میں دنیا بھر میں وسیع تحقیق موجود ہے، جس کے مطابق بعض کیمیکلز کینسر، تولیدی مسائل اور اعصابی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اہم قانون سازی سے قبل سائنس دانوں، ماہرینِ صحت اور ماحولیاتی تنظیموں کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع بھی نہیں دیا گیا، جو تشویش کا باعث ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل
بلاک کیوبیکوا، نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) اور گرین پارٹی نے بھی اس قانون کی مخالفت کی ہے۔
این ڈی پی نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ لبرل حکومت نے بحث کو محدود کرتے ہوئے بل کو جلد بازی میں منظور کرایا۔
دوسری جانب گرین پارٹی کی رہنما الزبتھ مے نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 51 برسوں میں زرعی ادویات کے حوالے سے جتنی قانون سازی دیکھی ہے، ان کے مطابق یہ سب سے زیادہ پسپائی پر مبنی تجویز ہے۔
حکومت کا مؤقف
وفاقی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے اختیارات غیر معمولی حالات میں ہی استعمال کیے جائیں گے۔
حکومتی رہنما اسٹیون میک کینن نے کہا کہ اگر کسی دوا سے صحت کے سنگین خطرات وابستہ ہوں تو کابینہ اس کے استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔
وزیر صحت مارجوری مشیل کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فیصلوں کے عمل میں شفافیت برقرار رکھی جائے گی اور صرف مخصوص اور عارضی حالات میں بعض زرعی ادویات کے استعمال کی اجازت دی جائے گی۔
حکومت نے حال ہی میں البرٹا اور سسکیچیوان میں زمینی گلہریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے اسٹرائکنین نامی زہریلی دوا کے محدود استعمال کی مثال بھی پیش کی، جسے ہنگامی حالات کے تحت عارضی منظوری دی گئی تھی۔
غذائی تحفظ اور مہنگائی کا مسئلہ
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر فصلوں کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق قانون میں تبدیلی کا مقصد کسانوں کو اضافی تحفظ فراہم کرنا، فصلوں کی پیداوار برقرار رکھنا اور کینیڈا کی غذائی خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ معاشی اور غذائی تحفظ کے نام پر سائنسی جانچ پڑتال کو نظر انداز کرنا طویل مدت میں عوامی صحت اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد اب یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا معاشی ضروریات کو سائنسی تحفظات پر فوقیت دی جانی چاہیے یا نہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

