اوٹاوا میں وفاقی، صوبائی اور علاقائی وزرائے امیگریشن کا اجلاس،
معیشت، لیبر مارکیٹ اور نئے آنے والوں کے انضمام پر تفصیلی غور
اوٹاوا میں وفاقی، صوبائی اور علاقائی وزرائے امیگریشن کے فورم (FMRI) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 2027 تا 2029 امیگریشن لیولز پلان اور مستقبل کی امیگریشن پالیسی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کینیڈا میں امیگریشن کو پائیدار سطح پر واپس لانا ضروری ہے تاکہ معیشت، لیبر مارکیٹ اور مقامی کمیونٹیز کی ضروریات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
وزرا نے کہا کہ امیگریشن پالیسی بناتے وقت علاقائی، دیہی اور شمالی علاقوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اجلاس میں لیبر کی کمی دور کرنے، اہم اقتصادی شعبوں کو مضبوط بنانے اور ملک بھر کی کمیونٹیز کی مدد کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر زور دیا گیا۔
امیگریشن کو متوازن بنانے پر زور
اجلاس میں وفاقی حکومت کے اس ہدف کا جائزہ لیا گیا کہ 2027 کے بعد مستقل رہائشیوں کی سالانہ تعداد کل آبادی کے ایک فیصد سے کم رکھی جائے، جبکہ عارضی رہائشیوں کی تعداد 2027 کے اختتام تک کل آبادی کے پانچ فیصد سے کم لانے کی کوشش کی جائے گی۔
وزرا نے اتفاق کیا کہ مستقل اور عارضی دونوں امیگریشن راستوں میں بہتر منصوبہ بندی، مؤثر انتظام اور پروگرام کی شفافیت ضروری ہے تاکہ کینیڈا کے امیگریشن نظام میں توازن بحال ہو اور اسے اقتصادی اہداف سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
صوبوں اور علاقوں کا اہم کردار
صوبائی اور علاقائی وزرا نے زور دیا کہ امیگریشن ایک مشترکہ اختیار ہے، اس لیے صوبوں اور علاقوں کو پالیسی سازی اور امیگریشن کی سطح طے کرنے میں حقیقی شراکت دار بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے اور علاقے کی لیبر مارکیٹ اور آبادیاتی ضروریات مختلف ہیں، لہٰذا ان کی آواز کو مؤثر طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔
وزرا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا بھر سے باصلاحیت اور تجربہ کار افراد کو کینیڈا لانا اور انہیں یہاں برقرار رکھنا قومی اور علاقائی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
PNP اور علاقائی پروگراموں کی اہمیت
اجلاس میں پروونشل نومینی پروگرام (PNP) اور اٹلانٹک امیگریشن پروگرام (AIP) کی اہمیت پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ صوبائی وزرا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پروگرام صوبوں اور علاقوں کو اپنی اقتصادی ترجیحات کے مطابق ہنرمند کارکن منتخب کرنے کا مؤثر اختیار دیتے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ PNP اور AIP کے لیے زیادہ اور مستحکم کوٹے مختص کیے جائیں تاکہ صوبے مقامی لیبر کی کمی بہتر انداز میں پوری کر سکیں۔
عارضی سے مستقل رہائش کی منتقلی
وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کینیڈا میں پہلے سے موجود بین الاقوامی طلبہ اور غیر ملکی کارکنوں کو عارضی حیثیت سے مستقل رہائش کی طرف منتقل کرنے کے عمل کو آسان بنایا جانا چاہیے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ نئے آنے والوں کی مجموعی تعداد پائیدار سطح پر رہے۔
اجلاس میں نئے آنے والوں کے انضمام کے لیے زبان کی تربیت، سیٹلمنٹ سروسز اور کمیونٹی سپورٹ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ صوبائی وزرا نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان خدمات کے لیے مناسب فنڈنگ بحال کی جائے۔
بین الاقوامی طلبہ اور ورک پرمٹ
وزرا نے کہا کہ بین الاقوامی طلبہ کینیڈا کی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اجلاس میں پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ پروگرام کو علاقائی لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
غیر ملکی اسناد کی منظوری اور فرانکوفون امیگریشن
اجلاس میں غیر ملکی تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد کی منظوری (FCR) میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر صحت کے شعبے میں۔ وزرا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ امیگریشن کے پورے عمل میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
وزرا نے فرانکوفون امیگریشن کی بھی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ کیوبیک سے باہر فرانسیسی بولنے والی کمیونٹیز کو مضبوط بنانے کے لیے یہ ایک اہم ترجیح ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2029 تک فرانکوفون مستقل رہائشیوں کا تناسب 12 فیصد تک پہنچایا جائے۔
کیوبیک کی خصوصی حیثیت
اجلاس میں وضاحت کی گئی کہ کینیڈا-کیوبیک معاہدے کے تحت کیوبیک امیگریشن کی سطح، انتخاب، فرانسیسی زبان کی تربیت اور نئے آنے والوں کے انضمام کے معاملات میں خودمختار حیثیت رکھتا ہے، اس لیے وہ بعض قومی فیصلوں کا پابند نہیں ہوگا۔
مشترکہ عزم
اجلاس کے اختتام پر تمام وفاقی، صوبائی اور علاقائی وزرا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قریبی، بامعنی اور بروقت تعاون کے ذریعے امیگریشن پالیسیوں اور پروگراموں کو بہتر بنائیں گے تاکہ کینیڈا اور اس کے شہریوں کے لیے بہترین ممکنہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

