سیاست

جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری

📷 Image credit to Social Media

جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری، نیٹ پیپر لیک معاملے پر حکومت کے خلاف نعرے

نئی دہلی: قومی اہلیت و داخلہ امتحان (NEET) پیپر لیک معاملے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے دہلی کے جنتر منتر پر دوسرے روز بھی مظاہرہ کیا گیا۔ تنظیم کے کارکنان اور طلبہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز بھی جنتر منتر پر مظاہرین کی بڑی تعداد موجود رہی، جہاں احتجاجی شرکاء نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے تھالیاں بجا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور “گو پردھان گو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کا بنیادی مقصد نیٹ پیپر لیک معاملے میں مبینہ غفلت اور تعلیمی نظام میں بڑھتی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا بتایا گیا۔

تعلیمی نظام میں شفافیت کا مطالبہ

احتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس معاملے میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پیپر لیک جیسے واقعات نہ صرف امتحانی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ محنت کرنے والے طلبہ کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتحانات کے انعقاد کے نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ملک کے تعلیمی اداروں اور امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہوگا۔

خودکشی کرنے والے طلبہ کے پوسٹر آویزاں

مظاہرے کے دوران جنتر منتر پر ایک اسٹیج بھی قائم کیا گیا جہاں نیٹ پیپر لیک تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے بعض طلبہ کی تصاویر اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر ان نوجوانوں کی یاد دلاتی ہیں جنہوں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور ذہنی دباؤ کے باعث اپنی جانیں گنوائیں۔

شرکاء نے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی بدعنوانی کے نتیجے میں صرف امتحانات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ نوجوانوں کی ذہنی صحت اور مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان بحث

پولیس کے مطابق احتجاج کے لیے مقررہ وقت شام پانچ بجے تک تھا، تاہم وقت ختم ہونے کے باوجود مظاہرین موقع پر موجود رہے۔ اس دوران دہلی پولیس نے احتجاجی شرکاء سے مقام خالی کرنے کی درخواست کی اور انہیں بتایا کہ احتجاج کے وقت میں توسیع کی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان مختصر بحث بھی ہوئی، جبکہ پولیس اہلکاروں نے بعض مظاہرین سے تھالیاں لینے کی کوشش کی تاکہ احتجاج ختم کرایا جا سکے۔ تاہم مظاہرین نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ابھجیت دیپکے کا سخت مؤقف

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں تھالیاں بجانے کو ایک مؤثر علامتی اقدام قرار دیا جا سکتا تھا تو آج بھی عوام کو اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں ذمہ داروں کا تعین اور وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر گرفتاری یا سخت کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تو مظاہرین اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دیپکے نے مزید کہا کہ ملک کے نوجوان انصاف چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر جمہوری طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں احتجاج جاری رکھیں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے کو مضبوط بنائیں۔

سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید

احتجاجی تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر اتنی ہی توانائی اور وسائل امتحانی پیپر لیک روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے تو آج طلبہ کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

تنظیم نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے ایک وزیر کے دفاع کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی، لیکن تعلیمی بدعنوانیوں کو روکنے اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے حکومت سیاسی نقصان سے بچنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی دکھائی دیتی ہے۔

نیٹ تنازع پر ملک گیر بحث

واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مختلف طلبہ تنظیمیں، سماجی گروہ اور سیاسی جماعتیں امتحانی عمل میں شفافیت کے مطالبے کے ساتھ مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

سی جے پی کے احتجاج نے ایک بار پھر امتحانی نظام، طلبہ کے حقوق اور تعلیمی شفافیت کے حوالے سے قومی سطح پر جاری بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔

احتجاجی رہنماؤں کے مطابق یہ تحریک صرف ایک امتحان یا ایک معاملے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل، انصاف اور شفاف تعلیمی نظام کی جدوجہد کا حصہ ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories