کاروبار

یورپی دفاعی معاہدے کے تحت پہلی کینیڈین کمپنی کو بڑا ٹھیکہ، پولینڈ کو کینیڈین ساختہ ریڈیو فراہم کیے جائیں گے

📷 Image Credit to Socail Media

یورپی دفاعی معاہدے کے تحت پہلی کینیڈین کمپنی کو بڑا ٹھیکہ، پولینڈ کو کینیڈین ساختہ ریڈیو فراہم کیے جائیں گے

اوٹاوا : کینیڈا کو یورپی دفاعی تعاون کے میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں یورپی یونین کے دفاعی خریداری پروگرام سیکیورٹی ایکشن فار یورپ (SAFE) کے تحت پہلی مرتبہ ایک کینیڈین کمپنی کو بڑا دفاعی معاہدہ دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو کینیڈا اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے فرانس کے شہر ایویان لی بین میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر اس معاہدے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا سے ملاقات کے دوران کہا کہ یہ SAFE پروگرام کے تحت کینیڈا کی شمولیت کا پہلا عملی نتیجہ ہے اور مستقبل میں ایسے مزید منصوبے سامنے آئیں گے۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور یورپ کے درمیان دفاعی تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور دونوں فریق مشترکہ طور پر عالمی سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈا یورپ کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور مضبوط شراکت دار بن چکا ہے۔

اس معاہدے کے تحت مونٹریال میں قائم دفاعی و ٹیکنالوجی کمپنی مارکونی ٹیکنالوجیز پولینڈ کی مسلح افواج کو کینیڈا میں تیار کردہ جدید ٹیکٹیکل ریڈیوز فراہم کرے گی۔ معاہدے کی مالیت ایک کروڑ ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے میں مارکونی ٹیکنالوجیز پولینڈ کی کمپنی اینامور انٹرنیشنل کے ساتھ شراکت داری کرے گی، جبکہ آلات کی فراہمی کا سلسلہ رواں سال شروع ہو کر 2030 تک جاری رہے گا۔

ماہرین کے مطابق جدید ٹیکٹیکل ریڈیوز فوجی رابطوں اور میدانِ جنگ میں مواصلاتی نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی دستوں کے درمیان محفوظ، تیز اور مؤثر رابطہ ممکن بنایا جاتا ہے، جس سے دفاعی کارروائیوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے رواں برس مئی میں کینیڈا کو SAFE پروگرام میں شامل کرنے کی باضابطہ منظوری دی تھی۔ کینیڈا اس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا اور واحد غیر یورپی ملک ہے، جسے یورپی یونین نے خصوصی حیثیت دی ہے۔

SAFE پروگرام دراصل 150 ارب یورو مالیت کا ایک دفاعی فنڈ ہے، جس کا مقصد یورپی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور براعظم کے دفاعی شعبے کو امریکی انحصار سے بتدریج آزاد کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت رکن ممالک اور شراکت داروں کو کم شرح سود پر قرضے اور دفاعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

کینیڈا کی شمولیت کے بعد اب کینیڈین کمپنیاں یورپی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں حصہ لے سکتی ہیں، دفاعی معاہدوں کے لیے بولی دے سکتی ہیں اور یورپی مالیاتی سہولیات سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کینیڈا کی دفاعی صنعت کے لیے نئی منڈیاں کھلیں گی اور ملکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے ممکنہ منصوبوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

مارک کارنی نے گزشتہ سال جون میں برسلز کے دورے کے دوران یورپی یونین کے ساتھ ایک جامع سیکیورٹی اور دفاعی شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد SAFE پروگرام میں کینیڈا کی شمولیت تقریباً یقینی سمجھی جا رہی تھی۔

یورپی یونین نے گزشتہ دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ SAFE پروگرام میں شامل ہونے کے لیے کینیڈا کو تقریباً ایک کروڑ یورو فیس ادا کرنا ہوگی، جو کینیڈین کرنسی میں تقریباً سولہ ملین ڈالر بنتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس وقت سوال اٹھایا تھا کہ آیا اس سرمایہ کاری کے بدلے کینیڈا کو خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل ہو سکیں گے یا نہیں۔ تاہم مارکونی ٹیکنالوجیز کو ملنے والا حالیہ معاہدہ اس شراکت داری کا پہلا نمایاں ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں اور دونوں فریق استحکام، سلامتی اور معاشی ترقی کے مشترکہ اہداف پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن نے بھی اس موقع پر کہا کہ کینیڈا اور یورپی یونین کے تعلقات اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں فریق مستقبل میں ڈیجیٹل تجارت، اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت عالمی سطح پر کینیڈا کے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو متنوع بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد امریکا پر طویل المدتی انحصار کو کم کرنا اور یورپ سمیت دیگر خطوں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنا ہے۔ SAFE پروگرام کے تحت حاصل ہونے والا یہ پہلا معاہدہ اسی حکمت عملی کی ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کینیڈین دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories