کاروبار

بینک آف کینیڈا کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کا امکان، معیشت کی سست روی برقرار

📷 Bank of Canada likely to keep interest rates unchanged, economy continues to slow

بینک آف کینیڈا کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کا امکان، معیشت کی سست روی برقرار

اوٹاوا: کینیڈا کی معیشت میں سست روی اور مہنگائی کے ملے جلے اشاروں کے درمیان توقع کی جا رہی ہے کہ بینک آف کینیڈا بدھ کے روز ہونے والے اپنے آئندہ پالیسی اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مسلسل پانچواں موقع ہوگا جب مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ ہفتوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے کینیڈا میں مہنگائی کی شرح کو دوبارہ بینک آف کینیڈا کے مقررہ 2 فیصد ہدف سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ پر مرکزی بینک کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتا، اس لیے صرف اسی بنیاد پر شرح سود میں ردوبدل کا امکان کم ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک اس بات کے واضح شواہد نہیں ملے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بنیادی یا کور مہنگائی پر نمایاں طور پر پڑا ہو۔ اپریل میں بینک آف کینیڈا کے پسندیدہ کور انفلیشن اشاریوں میں توقعات کے برعکس کمی دیکھی گئی، جس سے مرکزی بینک کو شرح سود برقرار رکھنے کے لیے مزید جواز ملا ہے۔

دوسری جانب معاشی نمو کے اعداد و شمار بھی توقعات سے کمزور رہے ہیں۔ کینیڈا کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) 2026 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 0.1 فیصد کم ہوئی، جو مسلسل دوسری سہ ماہی تھی جس میں معیشت سکڑتی ہوئی نظر آئی۔ اس سے قبل چوتھی سہ ماہی میں بھی معیشت میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ اعداد و شمار بینک آف کینیڈا کی اپریل میں جاری کی گئی اس پیش گوئی سے خاصے مختلف ہیں جس میں پہلی سہ ماہی کے دوران 1.5 فیصد معاشی نمو کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

تاہم کئی ماہرین کا خیال ہے کہ مجموعی معاشی تصویر سرکاری GDP اعداد و شمار سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافے کی رفتار میں نمایاں کمی کو مدنظر رکھا جائے تو فی کس GDP میں پہلی سہ ماہی کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح صارفین کے اخراجات میں بھی 1.5 فیصد کا مضبوط اضافہ دیکھنے میں آیا، جو گھریلو طلب میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں اگرچہ صارفین کے لیے اضافی اخراجات کا باعث بنتی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ ملکی معیشت میں آمدنی کے بہاؤ کو بھی بڑھاتی ہیں۔ ماضی میں جب تیل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی تھیں تو بینک آف کینیڈا نے “حقیقی مجموعی قومی آمدنی” (Real Gross Domestic Income) کو اہم اشاریے کے طور پر استعمال کیا تھا۔

یہ اشاریہ دراصل اس بات کی پیمائش کرتا ہے کہ ملکی پیداوار کے ذریعے کتنی اشیاء اور خدمات خریدی جا سکتی ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں حقیقی مجموعی قومی آمدنی میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا، جس سے کینیڈا اپنی برآمدات کے ذریعے زیادہ درآمدات خریدنے کے قابل ہوا۔

ملازمتوں کی صورتحال بھی معیشت کی سمت کا اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔ مئی میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اپریل میں 6.9 فیصد تھی۔ اگرچہ بے روزگاری میں کمی مثبت اشارہ ہے، لیکن یہ شرح اب بھی نسبتاً بلند سطح پر موجود ہے۔

لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمتوں سے فارغ کیے جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، تاہم نئی بھرتیوں کی رفتار اب بھی کمزور ہے۔ خاص طور پر روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے نئے افراد کو ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کے باوجود مئی میں کام کے مجموعی اوقات میں 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ اپریل میں یہ اشاریہ تقریباً جمود کا شکار تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ لیبر مارکیٹ میں حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، اگرچہ بہتری کی رفتار ابھی سست ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی نمو اور لیبر مارکیٹ میں پائے جانے والے بعض کمزور اشارے بینک آف کینیڈا کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اسی لیے مرکزی بینک شرح سود میں جلد بازی سے نہ تو اضافہ کرنا چاہے گا اور نہ ہی کمی۔

موجودہ معاشی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے بیشتر ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ بینک آف کینیڈا 2026 کے باقی حصے میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معیشت اور روزگار کی صورتحال سال کے اختتام تک مزید بہتر ہوتی ہے تو شرح سود میں اگلی ممکنہ تبدیلی 2027 میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

مالیاتی منڈیوں اور کاروباری حلقوں کی نظریں اب بدھ کے روز ہونے والے بینک آف کینیڈا کے فیصلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف قرضوں، رہائشی مارکیٹ اور سرمایہ کاری پر اثر انداز ہوگا بلکہ آنے والے مہینوں میں کینیڈا کی مجموعی اقتصادی سمت کا بھی اہم اشارہ ثابت ہوگا۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories