کینیڈا

جاپان کی تیونس کے خلاف 4-0 کی شاندار جیت

📷 Image credit to X

جاپان کی تیونس کے خلاف 4-0 کی شاندار جیت، آیاسے اوئیڈا کے دو گول، تیونس ورلڈ کپ 2026 سے باہر

ٹوکیو/بوسٹن: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ایشیائی طاقت جاپان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیونس کو 0-4 سے شکست دے دی اور ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی کی جانب ایک بڑا قدم بڑھا دیا۔ بوسٹن اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گروپ ایف کے اس اہم مقابلے میں جاپان کے اسٹرائیکر آیاسے اوئیڈا نے دو گول اسکور کیے، جبکہ دائچی کامادا اور جونیا ایتو نے ایک، ایک گول کر کے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ میچ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل رہا، کیونکہ یہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک ہزارواں مقابلہ بھی تھا۔ جاپان نے اس یادگار میچ کو اپنی بہترین کارکردگی سے مزید خاص بنا دیا اور تیونس کو یکطرفہ مقابلے میں شکست دے کر چار پوائنٹس کے ساتھ گروپ ایف میں نیدرلینڈز کے برابر پہنچ گیا۔ تاہم بہتر گول اوسط کی بنیاد پر نیدرلینڈز اب بھی گروپ میں سرفہرست ہے۔

جاپان کا جارحانہ آغاز

میچ کے آغاز سے ہی جاپانی کھلاڑیوں نے جارحانہ انداز اپنایا اور تیونس کی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ جاپان کو صرف چوتھے منٹ میں برتری حاصل ہوگئی جب دائچی کامادا نے شاندار موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔

یہ گول جاپان کی ورلڈ کپ تاریخ کا تیز ترین گول بھی ثابت ہوا۔ کرسٹل پیلس سے تعلق رکھنے والے مڈفیلڈر کامادا نے کیتو ناکامورا کے خوبصورت کراس پر گیند کو آسانی سے گول میں تبدیل کر کے اپنی ٹیم کو 0-1 کی برتری دلائی۔

ابتدائی گول کے بعد جاپان کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا اور اس نے کھیل پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ تیونس کی ٹیم دفاعی دباؤ میں نظر آئی۔

آیاسے اوئیڈا کا جادو

پہلے ہاف کے 31ویں منٹ میں جاپان نے اپنی برتری دگنی کر دی۔ اس موقع پر آیاسے اوئیڈا نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

اوئیڈا نے مڈفیلڈ میں گیند حاصل کی اور تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے تیونس کے دفاع کو چیر دیا۔ اگرچہ ان کے پاس ساتھی کھلاڑیوں کو پاس دینے کا موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے خود شاٹ لینے کا فیصلہ کیا۔

27 سالہ اسٹرائیکر نے پنالٹی ایریا کے باہر سے زاویہ دار زوردار شاٹ کھیلا جو سیدھا گول کے بائیں کونے میں جا لگا اور جاپان کی برتری 0-2 ہوگئی۔

اوئیڈا اس وقت یورپی کلب فٹبال میں بھی عمدہ فارم میں ہیں۔ انہوں نے ڈچ لیگ ایریڈیویزی میں فینورڈ کی جانب سے 24 گول اسکور کیے تھے اور لیگ کے ٹاپ اسکورر کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

تیونس کی مشکلات میں اضافہ

تیونس اس میچ میں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار تھا۔ ٹیم اپنے پہلے میچ میں سویڈن کے ہاتھوں 1-5 کی بدترین شکست کے بعد میدان میں اتری تھی۔

اس ناکامی کے بعد تیونس نے اپنے ہیڈ کوچ کو برطرف کر دیا تھا اور تجربہ کار کوچ ہروی رینارڈ کو ٹیم کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دو مرتبہ افریقن کپ آف نیشنز جیتنے والے رینارڈ سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ ٹیم کو نئی روح دیں گے، تاہم جاپان کے خلاف ان کی حکمت عملی کامیاب ثابت نہ ہو سکی۔

تیونس کے کھلاڑی جاپان کی برق رفتار حملہ آور لائن کو روکنے میں ناکام رہے اور پورے میچ کے دوران خاطر خواہ مواقع بھی پیدا نہ کر سکے۔

دوسرے ہاف میں جاپان کی مکمل برتری

دوسرے ہاف میں بھی جاپان نے اپنی برتری برقرار رکھی اور تیونس کو واپسی کا کوئی موقع نہیں دیا۔

69ویں منٹ میں جاپان نے تیسرا گول اسکور کیا۔ آیاسے اوئیڈا نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیند کو جونیا ایتو کے راستے میں ڈال دیا۔

جونیا ایتو نے تیونس کے گول کیپر ایمن دہمن کے ساتھ ون آن ون صورتحال میں انتہائی سکون سے گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور 0-3 کر دیا۔

اس گول نے تیونس کی آخری امیدیں بھی ختم کر دیں اور جاپان کی فتح تقریباً یقینی ہو گئی۔

اوئیڈا کا دوسرا گول اور شاندار اختتام

میچ کے 83ویں منٹ میں آیاسے اوئیڈا نے اپنی شاندار کارکردگی کو ایک اور خوبصورت گول سے مکمل کیا۔

انہوں نے بلند کراس پر عمدہ ہیڈر لگایا جو گول کیپر کی پہنچ سے دور جال میں جا گرا۔ اس گول کے ساتھ جاپان کی برتری 0-4 ہوگئی اور میچ کا فیصلہ بھی مکمل طور پر جاپان کے حق میں ہو گیا۔

اوئیڈا کے دو گولوں نے انہیں میچ کا سب سے نمایاں کھلاڑی بنا دیا، جبکہ جاپان کی مجموعی ٹیم کارکردگی بھی شاندار رہی۔

جاپان کی تاریخی کامیابی

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جاپان نے کسی ورلڈ کپ میچ میں چار گول اسکور کیے ہوں۔ اس طرح سامورائی بلیو نے اپنی ورلڈ کپ تاریخ کی سب سے بڑی فتوحات میں سے ایک حاصل کی۔

جاپان اب مسلسل چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کے قریب پہنچ چکا ہے اور ٹیم کم از کم گروپ میں تیسرے نمبر کی پوزیشن یقینی بنا چکی ہے، جو ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

تیونس کا سفر اختتام پذیر

اس شکست کے بعد تیونس کا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا سفر ختم ہو گیا۔ دو میچوں میں مسلسل شکستوں کے باعث شمالی افریقی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچنے کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔

دوسری جانب جاپان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ ایشیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہے اور 2022 کے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے کے تاریخی سفر کو دہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

جاپان کی شاندار فتح نے نہ صرف اس کے شائقین کو خوشی دی بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ سامورائی بلیو اس مرتبہ ورلڈ کپ میں کسی بھی بڑی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories