ایران اور امریکا کے ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدیں بتائی جا رہی ہیں۔ ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے ابتدائی اوقات کے دوران تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 98.22 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی خام تیل (West Texas Intermediate – WTI) کی قیمت بھی 5.2 فیصد کم ہو کر 91.57 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ یہ کمی حالیہ ہفتوں میں سب سے بڑی یومیہ گراوٹوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سرمایہ کاروں میں یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر سفارتی پیش رفت ممکن ہے۔ اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور تیل کی عالمی سپلائی میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے کشیدہ تعلقات رہے ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی بڑی وجہ رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں مختلف سفارتی حلقوں کی جانب سے یہ اشارے سامنے آئے ہیں کہ دونوں ممالک بالواسطہ یا غیر رسمی سطح پر کسی سمجھوتے کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
مارکیٹ میں موجود سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی معاہدے سے متعلق مثبت خبریں سامنے آئیں، فوری طور پر عالمی تیل کی قیمتوں میں فروخت کا رجحان (selling pressure) بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں نیچے آ گئیں۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی منڈی ہمیشہ جغرافیائی سیاسی حالات (geopolitical developments) پر حساس ردعمل دیتی ہے، اور معمولی تبدیلی بھی قیمتوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔
تاہم اس کے باوجود بعض ماہرین محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ سفارتی کوششوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، لیکن ابھی تک کسی حتمی یا باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اسی دوران سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایک بیان نے بھی مارکیٹ کے جذبات پر اثر ڈالا ہے۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی معاہدے کے معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ ان کے اس بیان کو بھی سرمایہ کاروں نے ایک محتاط اشارہ قرار دیا، جس نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی صورت میں اس کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں سپلائی کے خدشات پیدا ہوں گے اور تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کار اس وقت “انتظار اور جائزہ” (wait and watch) کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسیوں کے مطابق عالمی تیل کی منڈی پہلے ہی متعدد عوامل جیسے معاشی سست روی، طلب میں تبدیلی، اور اوپیک پلس کی پیداوار پالیسیوں سے متاثر ہے۔ ایسے میں جغرافیائی سیاسی پیش رفتیں قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کمی وقتی بھی ہو سکتی ہے اور اگر سفارتی پیش رفت آگے بڑھتی ہے تو یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے، تاہم کسی بھی غیر متوقع سیاسی پیش رفت کی صورت میں مارکیٹ دوبارہ تیزی سے بدل سکتی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

