امیگریشن

بے روزگاری میں معمولی کمی، معاشی چیلنجوں کے باوجود کینیڈا کی مثبت پیش رفت: رپورٹ

Image credit unavailable

بے روزگاری میں معمولی کمی، معاشی چیلنجوں کے باوجود کینیڈا کی مثبت پیش رفت: رپورٹ

اوٹاوا: عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کینیڈا کی معیشت نے مئی کے مہینے میں ایک حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس نے نہ صرف ماہرین معاشیات بلکہ پالیسی سازوں کو بھی امید دلائی ہے کہ ملک کی اقتصادی بنیادیں اب بھی مضبوط اور لچکدار ہیں۔ Statistics Canada کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں 88 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہو کر 6.6 فیصد تک آ گئی ہے۔یہ اعداد و شمار اس پس منظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں کہ سال کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں کا خاتمہ ہو چکا تھا، جس سے معیشت کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے۔ تاہم مئی کے مہینے میں ہونے والی بہتری نے اس تاثر کو کمزور کیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ معیشت دوبارہ استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین معاشیات نے صرف 10 ہزار نئی ملازمتوں کی پیش گوئی کی تھی، لیکن اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوئے۔ اس غیر متوقع اضافے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں اور مختلف شعبے آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔شعبہ جاتی سطح پر دیکھا جائے تو تعمیراتی شعبے میں نمایاں اضافہ سامنے آیا، جو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹیشن اور گودام کے شعبے میں بہتری، سپلائی چین کے استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔ ثقافت اور تفریح کے شعبوں میں سرگرمیوں کا بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ دوبارہ معمول کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔خاص طور پر نوجوانوں کے لیے 99 ہزار کل وقتی ملازمتوں کا پیدا ہونا ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے، جو مستقبل کے حوالے سے امید افزا اشارہ فراہم کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف نوجوانوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ مجموعی طور پر معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔تاہم اس مثبت تصویر کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی بدستور موجود ہیں۔ ہول سیل اور ریٹیل تجارت کے شعبے میں 35 ہزار ملازمتوں کا خاتمہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ شعبے اب بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ اسی طرح نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔مزید برآں، اجرتوں میں اضافے کی رفتار کا سست ہونا بھی توجہ طلب پہلو ہے۔ اگر آمدنی میں اضافہ سست رہے تو اس کا اثر عوام کی قوت خرید پر پڑ سکتا ہے، جو معیشت کی مجموعی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کینیڈا کی معیشت اس وقت ایک متوازن مرحلے میں ہے، جہاں نہ تو تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے اور نہ ہی کساد بازاری کے واضح آثار ہیں۔ موجودہ حالات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیشت دباؤ کے باوجود اپنے قدم جمائے ہوئے ہے۔ماہرین کے مطابق حکومت اور مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ محتاط اور متوازن پالیسیوں کے ذریعے اس مثبت رجحان کو برقرار رکھیں، تاکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ جاری رہے اور معیشت کو طویل مدتی استحکام حاصل ہو سکے۔ یوں مئی کا مہینہ کینیڈا کی معیشت کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہوا ہے، جو مستقبل میں مزید بہتری کی امید پیدا کرتا ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories