کمیونٹی

سرے میں دن دہاڑے قتل ہونے والا شخص لارنس بشنوئی گینگ کا مبینہ اہم رکن نکلا، تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات

📷 Man murdered in broad daylight in Surrey turns out to be alleged key member of Lawrence Bishnoi gang, shocking revelations in investigation

سرے میں دن دہاڑے قتل ہونے والا شخص لارنس بشنوئی گینگ کا مبینہ اہم رکن نکلا، تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات

کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں گزشتہ ماہ ایک دفتری عمارت کے اندر دن دہاڑے فائرنگ کر کے قتل کیے گئے شخص کے بارے میں تحقیقات کے دوران اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت 35 سالہ گوروکرم جیت سنگھ وارنگ کے طور پر ہوئی ہے، جسے “سام”، “کینیڈا سام” اور “ستویر سنگھ وارنگ” سمیت مختلف ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔

رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس (RCMP) کی انٹیگریٹڈ ہومیسائیڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق فائرنگ کا واقعہ 4 مئی کو دوپہر تقریباً 3 بجے سرے کے ایک دفتری کمپلیکس میں پیش آیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے مقتول کی شناخت یا قتل کے محرکات کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی تھی، جس کے باعث مقامی کمیونٹی میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں۔

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نہایت اطمینان سے عمارت میں داخل ہوئے، مقتول کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق وارنگ اس وقت ایک نجی تعلیمی ادارے وینکوور اسکول آف مینجمنٹ میں کرائے پر لیے گئے دفتر میں موجود تھا، جہاں وہ مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے تصدیق کی کہ مقتول واقعی گوروکرم جیت سنگھ وارنگ تھا اور اسے “کینیڈا سام” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق اب تک کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، تاہم تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں کم از کم دو افراد ملوث تھے۔

ذرائع کے مطابق وارنگ کے تعلقات بھارت میں سرگرم بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ سے تھے، جسے کینیڈا دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مقتول اس گروہ کے لیے ایک اہم رابطہ کار یا “مین ہینڈلر” کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس کی ہلاکت نے کینیڈا میں منظم جرائم، امیگریشن نیٹ ورکس اور کرکٹ میں مبینہ بدعنوانی کے درمیان تعلقات کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

برٹش کولمبیا کی سابق رکن پارلیمان اور ریڈیو میزبان جنی سمز، جن کا دفتر بھی اسی عمارت میں واقع ہے، نے کہا کہ یہ واقعہ عام جرائم سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کا سیدھا اندر آنا، مخصوص شخص کو نشانہ بنانا اور فوری طور پر فرار ہو جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قتل مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

واقعے کے اگلے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں ایک حریف بھارتی گروہ کے رہنما روہت گودارا سے منسوب اکاؤنٹ نے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔ پوسٹ میں وارنگ کو لارنس بشنوئی کا “اہم رابطہ کار” قرار دیا گیا۔

بھارت کے ایک آزاد صحافی کے مطابق روہت گودارا ایک ایسے گروہ سے وابستہ ہے جو پہلے لارنس بشنوئی نیٹ ورک کا حصہ تھا، لیکن بعد میں الگ ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں گروہوں کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے خونریز تصادم جاری ہے اور متعدد حملے اسی دشمنی کا نتیجہ سمجھے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اسی دعوے میں وارنگ پر کینیڈا میں کرکٹ میچوں میں مبینہ فکسنگ اور سٹے بازی کے نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ کرکٹ فکسنگ، سٹے بازی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ادھر کرکٹ کینیڈا سے متعلق حالیہ تحقیقات کے دوران بھی بعض ذرائع نے ایک شخص “سام” کا ذکر کیا تھا، جس پر قومی ٹیم کے انتخاب اور دیگر معاملات میں کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو دھمکانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ بعد ازاں انہی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ “سام” اور گوروکرم جیت سنگھ وارنگ ایک ہی شخص تھے۔

پولیس نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعووں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ان کی صداقت کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم تفتیش صرف شواہد اور قانونی بنیادوں پر آگے بڑھائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام ممکنہ محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سرے میں پیش آنے والا یہ واقعہ کینیڈا میں منظم جرائم، بین الاقوامی گینگ وارز اور مبینہ کرکٹ بدعنوانی کے ممکنہ روابط کے حوالے سے ایک اہم کیس بن چکا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قتل کے پس پردہ عوامل اور ذمہ دار عناصر تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories