آسٹریلیا کے بعد کینیڈا کا بھی 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا منصوبہ
اوٹاوا: آسٹریلیا کے بعد اب کینیڈا نے بھی کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت ایک نیا قانون متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کو محدود یا مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔یہ مجوزہ قانون، جسے “آن لائن نقصانات سے تحفظ کا بل” قرار دیا جا رہا ہے، امکان ہے کہ پارلیمنٹ میں جلد پیش کیا جائے گا۔ اس قانون کا بنیادی مقصد بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ پر موجود نقصان دہ مواد اور ذہنی و سماجی خطرات سے بچانا ہے، جو حالیہ برسوں میں ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس بل میں مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ کچھ شرائط و ضوابط بھی شامل کیے جا سکتے ہیں، جن کے تحت مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ کم عمر صارفین کو محدود رسائی فراہم کریں۔ تاہم اس کے لیے کمپنیوں کو سخت حفاظتی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔مجوزہ قانون کے تحت ایک نیا قومی ڈیجیٹل نگران ادارہ قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جو سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے واضح اصول و ضوابط مرتب کرے گا۔ اس ادارے کا کام یہ ہوگا کہ وہ ایسے اقدامات کو یقینی بنائے جن کے ذریعے بچوں کو نقصان دہ مواد، غلط معلومات اور آن لائن استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق جو کمپنیاں ان حفاظتی معیارات پر پورا اتریں گی، وہ دوبارہ درخواست دے سکیں گی کہ انہیں 16 سال سے کم عمر صارفین کو اپنی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم اس کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارم کو بچوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔یہ بل سوشل میڈیا کمپنیوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد کرے گا کہ وہ نقصان دہ مواد کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ اس میں خاص طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کا ذکر کیا گیا ہے، جن کے بارے میں ماہرین اور سماجی کارکنوں نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ چیٹ بوٹس، جو انسانوں کی طرح بات چیت کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، بچوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں ان پروگرامز نے بچوں کو خودکشی جیسے حساس موضوعات پر خطرناک مشورے دیے یا کھانے کی خرابیوں کو چھپانے کے طریقے سکھائے، جس نے والدین اور ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔سماجی کارکنوں اور والدین کی جانب سے حکومت پر کافی عرصے سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ بچوں کو ان خطرات سے بچانے کے لیے مؤثر قانون سازی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غیر محتاط استعمال بچوں کی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور سماجی رویوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ماہرین تعلیم کے مطابق کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ اور نیند کی خرابی جیسے مسائل کو جنم دیا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور نئی پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں۔کینیڈا کا یہ اقدام اس عالمی رجحان کا حصہ ہے، جس کے تحت حکومتیں ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے قوانین سخت کر رہی ہیں۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قدم ثابت ہوگا، تاہم اس کے عملی نفاذ اور نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ قوانین پر کس حد تک مؤثر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔مبصرین کے مطابق اس قانون سازی سے نہ صرف سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا بلکہ والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ یوں یہ اقدام مستقبل میں ایک محفوظ اور متوازن ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

