ٹورنٹو کے آئی لینڈ ایئرپورٹ کے مستقبل پر وفاقی حکومت نے عوامی مشاورت کا آغاز کر دیا
ٹورنٹو: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ٹورنٹو کے مشہور بلی بشپ ٹورنٹو سٹی ایئرپورٹ (آئی لینڈ ایئرپورٹ) کے مستقبل کے حوالے سے عوامی مشاورت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ اونٹاریو کی حکومت ایئرپورٹ کی توسیع کر کے وہاں جیٹ طیاروں کی آمدورفت کی اجازت دینے کی خواہاں ہے۔
حال ہی میں اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ کی پروگریسو کنزرویٹو حکومت نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ٹورنٹو شہر کی انتظامیہ کو اس سہ فریقی معاہدے سے الگ کر دیا گیا جو بلی بشپ ایئرپورٹ کے انتظام اور مستقبل سے متعلق امور کی نگرانی کرتا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد اب یہ معاہدہ صوبہ اونٹاریو، وفاقی حکومت اور ٹورنٹو پورٹ اتھارٹی کے درمیان برقرار ہے۔ ٹورنٹو پورٹ اتھارٹی ایک وفاقی ادارہ ہے جو ایئرپورٹ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔
وزیرِ اعظم مارک کارنی نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ انہوں نے ابھی تک ایئرپورٹ کی توسیع کے منصوبے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل وسیع عوامی مشاورت کی جائے گی۔ وفاقی وزیرِ ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن اور ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے دیگر لبرل اراکینِ پارلیمنٹ بھی اس منصوبے کے بارے میں کھل کر کسی ایک مؤقف کا اظہار کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ملک بھر کے شہریوں کے لیے مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے۔ وفاقی محکمۂ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ تمام کینیڈین شہری آن لائن یا ڈاک کے ذریعے اپنی آراء اور تجاویز 24 جولائی تک جمع کرا سکتے ہیں۔
محکمۂ ٹرانسپورٹ کے مطابق مشاورت کے دوران عوام سے متعدد اہم پہلوؤں پر رائے طلب کی جا رہی ہے، جن میں شور کی سطح، ماحولیاتی اثرات، معاشی فوائد و نقصانات، اور ایئرپورٹ کے اطراف آباد کمیونٹیز کے معیارِ زندگی پر ممکنہ اثرات شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کی توسیع سے متعلق فیصلہ کرتے وقت مقامی آبادی، کاروباری حلقوں، ماہرینِ ماحولیات اور دیگر متعلقہ فریقین کی آراء کو مدنظر رکھا جائے گا۔ حکومت کے مطابق عوامی مشاورت کے دوران موصول ہونے والی تجاویز اور آراء مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کریں گی۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد ایک جامع رپورٹ جاری کی جائے گی جس میں عوام کی جانب سے سامنے آنے والے خیالات، خدشات اور سفارشات کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر وفاقی حکومت بلی بشپ ٹورنٹو سٹی ایئرپورٹ کے مستقبل اور ممکنہ توسیعی منصوبوں کے حوالے سے اپنی آئندہ حکمتِ عملی اور فیصلوں کا تعین کرے گی۔
یاد رہے کہ بلی بشپ ایئرپورٹ ٹورنٹو کے واٹر فرنٹ کے قریب واقع ہے اور شہر کے اہم ہوائی اڈوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کی توسیع اور جیٹ طیاروں کی اجازت کے معاملے پر گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی، ماحولیاتی اور مقامی سطح پر بحث جاری ہے۔ بعض حلقے اسے معاشی ترقی اور سفری سہولتوں کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر افراد شور، فضائی آلودگی اور مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات کے باعث اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی یہ مشاورت اسی تنازع کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

