امیگریشن

کینیڈا پارلیمنٹ میں نجی جائیداد اور مقامی زمینی حقوق سے متعلق قرارداد مسترد، سیاسی بحث میں اضافہ

📷 canadian national flag in ottawa

اوٹاوا :کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں ایک غیر پابند قرارداد اکثریتی ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے، جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقامی اقوام کے زمینی دعووں کے مقابلے میں نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس فیصلے کے بعد ملک میں مقامی حقوق، نجی ملکیت اور عدالتی فیصلوں کے دائرہ کار پر ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لیا ہے۔

یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب 2025 میں برٹش کولمبیا سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا کہ مقامی ملکیتی حقوق اور نجی جائیداد کے حقوق کو ایک ساتھ کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ آئینی معاملہ ہے جو مستقبل میں کینیڈا کے جائیداد کے نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت اور کویچن قبائل دونوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان کا مقصد موجودہ نجی جائیداد کو ختم کرنا نہیں ہے اور نہ ہی عام شہریوں کی ملکیتی زمینوں کو واپس لینے کی کوئی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے، جبکہ صوبائی سطح پر بھی قانونی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث معاملہ مختلف عدالتی مراحل سے گزر رہا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولی ایو نے اس مسئلے کو سیاسی طور پر اجاگر کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کی جماعت نے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں خصوصی کمیٹی کے قیام اور نجی جائیداد کے حقوق کو ترجیح دینے کی سفارش شامل تھی، ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی زمینی معاہدے میں نجی ملکیت کے تحفظ کو واضح طور پر یقینی بنایا جائے۔ تاہم ووٹنگ کے دوران لبرل پارٹی، این ڈی پی اور بلاک کیوبیکوا نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا جبکہ کنزرویٹو ارکان نے حمایت کی، جس کے نتیجے میں قرارداد اکثریتی ووٹوں سے مسترد ہو گئی۔

اس ووٹنگ نے پارلیمان میں واضح سیاسی تقسیم کو ظاہر کیا ہے، جہاں ایک جانب نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مقامی اقوام کے تاریخی اور آئینی حقوق کو تسلیم کرنے اور عدالتی عمل کو مکمل طور پر آگے بڑھنے دینے کی حمایت کی جا رہی ہے۔

کوئچن-مالہٹ-لینگفورڈ سے کنزرویٹو رکن پارلیمان جیف کیبل نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ان کے علاقے میں بے یقینی اور تقسیم کی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جبکہ ان کے ساتھی رکن مارک ڈالٹن نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ برٹش کولمبیا میں پہلے ہی متعدد زمینی دعوے زیرِ التوا ہیں اور ایسے فیصلے عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب وزیرِ برائے مقامی تعلقات نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پر پارلیمان کو براہِ راست مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ اس وقت عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے بھی اس فیصلے کے قانونی اثرات کے تعین کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی جائیداد کے تحفظ کو ضروری سمجھتی ہے تاکہ شہریوں کو اپنے گھروں اور کاروبار کے حوالے سے اعتماد حاصل رہے، تاہم مقامی اقوام کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو سیاسی تنازع بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے غلط فہمیاں اور بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories