عمان کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ہوئےحملے کے بعد بھارتی ساحلی محافظ دستےاور عمان کے حکام کی مشترکہ کوششوں سے 24 بھارتی ملاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا
ممبئی: بھارتی کوسٹ گارڈ کے میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (ایم آر سی سی) ممبئی نے بروقت کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے عمان کے ساحل کے قریب میزائل حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر پر سوار تمام 24 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی بحری امدادی نظام اور مختلف ممالک کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی ایک کامیاب مثال ثابت ہوئی۔
بھارتی کوسٹ گارڈ کے مطابق 8 جون 2026 کو دوپہر تقریباً 2 بج کر 20 منٹ پر ایم آر سی سی ممبئی کو اطلاع موصول ہوئی کہ پلاؤ کے جھنڈے والے آئل ٹینکر ایم ٹی میری ویکس (MT Mary Vex) پر میزائل حملہ ہوا ہے۔ اس وقت جہاز پر 24 بھارتی شہری بطور عملہ موجود تھے۔ یہ آئل ٹینکر عمان کے ساحل کے قریب جزیرہ مسیرہ کے علاقے میں لنگر انداز تھا جب اس پر حملہ کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھارتی حکام نے صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا۔
اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعد ایم آر سی سی ممبئی نے عمان میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر (او ایم ایس سی) سے رابطہ قائم کیا اور دونوں اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی گئی۔ اس دوران جہاز کی پوزیشن، عملے کی حالت اور ریسکیو آپریشن سے متعلق تمام معلومات کا تبادلہ کیا جاتا رہا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ بھارتی کوسٹ گارڈ نے اس پورے عمل کے دوران متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا اور ہر پیش رفت پر نظر رکھی۔
شام تقریباً 5 بجے عمانی حکام نے تصدیق کی کہ عمان کی بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آئل ٹینکر پر موجود تمام 24 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی بھی بھارتی ملاح کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں ضروری طبی معائنہ اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔
بھارتی حکام نے بتایا کہ اگرچہ عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، تاہم آئل ٹینکر اب بھی عمان کے ساحل کے قریب مسیرہ کے علاقے میں لنگر انداز ہے۔ متعلقہ ادارے جہاز کی تکنیکی حالت، حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان اور آئندہ حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ واقعے کی وجوہات اور حملے کی نوعیت سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سمندری راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
بحری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ عرب کے بعض علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بحری جہازوں پر حملوں اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت اور جہاز رانی کے شعبے کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں مختلف ممالک کے میری ٹائم ریسکیو مراکز، بحری افواج اور ساحلی محافظ اداروں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ تعاون انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت کسی بھی بحری حادثے یا ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ممالک کے میری ٹائم ریسکیو مراکز ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں تاکہ متاثرہ جہاز، اس کے عملے اور مسافروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ واقعہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ مختلف ممالک کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت معلومات کی فراہمی اور مشترکہ ریسکیو کارروائیاں قیمتی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
بھارتی کوسٹ گارڈ نے بھی اس کامیاب آپریشن کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا اہم مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود بھارتی ملاحوں کی حفاظت اور بحری ہنگامی حالات میں بروقت امداد کی فراہمی کے لیے ہمیشہ مستعد رہتا ہے۔ حکام کے مطابق مستقبل میں بھی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ سمندری راستوں پر سفر کرنے والے بھارتی شہریوں کی سلامتی کو ہر ممکن حد تک یقینی بنایا جا سکے۔
