دنیا

ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا، ٹرمپ کا دعویٰ

📷 Iran has agreed not to build nuclear weapons, Trump claims

ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جسے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور تہران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق، ’’میرے لیے سب سے اہم ضمانت یہ ہے کہ جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایرانی قیادت شامل ہے اور بات چیت تعمیری انداز میں جاری ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مذاکراتی عمل سے آگاہ ہیں اور ان کی منظوری کے ساتھ یہ بات چیت جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے تاحال ٹرمپ کے اس دعوے کی مکمل اور واضح تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ گزشتہ دنوں بھی ایرانی حکام بعض امریکی بیانات کو مبالغہ آمیز قرار دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ مذاکرات میں کئی اہم نکات پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور خطے کی سکیورٹی سمیت متعدد حساس معاملات زیرِ بحث ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے کشیدہ تعلقات کے باوجود حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے جوہری پروگرام پر مؤثر اور قابلِ تصدیق پابندیاں ضروری ہیں۔

سیاسی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر ایران باضابطہ طور پر جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دیتا ہے اور اس حوالے سے کسی جامع معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور ایران کے دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے کسی معاہدے سے خطے میں کشیدگی میں کمی، سفارتی روابط کی بحالی اور باہمی اعتماد میں اضافے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس سے علاقائی استحکام کو تقویت ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی عالمی منڈی، خام تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت میں استحکام آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا میں تیل اور گیس کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں کمی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی متعدد چیلنجز موجود ہیں۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان برسوں سے جاری عدم اعتماد، پابندیوں، علاقائی تنازعات اور سلامتی سے متعلق خدشات کو دور کیے بغیر دیرپا پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آئندہ مراحل میں شفافیت، بین الاقوامی نگرانی، اعتماد سازی کے عملی اقدامات اور تمام متعلقہ فریقوں کی سنجیدہ سفارتی کوششیں نہایت اہم ہوں گی۔ ان کے مطابق اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ کسی بھی تعطل یا ناکامی کی صورت میں خطے میں سیاسی اور عسکری کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

ادھر عالمی برادری بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ ان کے نتائج مستقبل میں خطے کے امن، عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories