امریکا کی جانب سے کینیڈا سمیت متعدد ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جبری مشقت (فورسڈ لیبر) سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام کے تحت کینیڈا سمیت متعدد اہم تجارتی شراکت دار ممالک پر اضافی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی جانب سے بدھ کی صبح جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا، میکسیکو، تائیوان، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ممالک مبینہ طور پر جبری مشقت سے تیار شدہ اشیا کی درآمد پر پابندی کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت درجنوں دیگر ممالک کی مصنوعات پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام تجارتی شراکت دار ممالک کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ بین الاقوامی تجارت دنیا بھر میں جبری مشقت کے فروغ اور استحکام کا سبب نہ بنے۔
تاہم مجوزہ اضافی ٹیرف فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ ان تجاویز کو عوامی مشاورت، تبصروں اور حکومتی جائزے کے مراحل سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ تحقیقات 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت کی گئی ہیں، جس میں ان ممالک کے کردار کا جائزہ لیا گیا جو مبینہ طور پر جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیرف کے نفاذ سے متعلق عدالتی پابندیوں سے بچنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں جبری مشقت کی تعریف ایسے کام یا خدمت کے طور پر کی گئی ہے جو کسی فرد سے سزا یا دباؤ کے خوف کے تحت لی جائے اور جس کے لیے وہ شخص رضاکارانہ طور پر آمادہ نہ ہو۔
یاد رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں ایک فیصلے میں قرار دیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سیکشن 301 کے تحت نئی تجارتی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ امریکی ٹیرف نافذ کر دیے جاتے ہیں تو ان کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، بین الاقوامی سپلائی چینز اور عالمی معیشت پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق درآمدی محصولات میں اضافے سے مختلف ممالک کے درمیان تجارتی لاگت بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں خام مال، صنعتی مصنوعات اور صارفین کی روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس سے عالمی مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت دار ممالک ممکنہ طور پر جوابی اقدامات یا متبادل تجارتی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی تجارتی تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث برآمدات اور درآمدات کا توازن متاثر ہونے، سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے اور کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر وہ صنعتیں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں جو عالمی سپلائی چینز پر انحصار کرتی ہیں، جیسے آٹوموبائل، الیکٹرانکس، اسٹیل، زرعی مصنوعات اور مینوفیکچرنگ کا شعبہ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیاں بھی ایسی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ تجارتی کشیدگی میں اضافے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تجارتی اختلافات حل نہ کیے گئے تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی کی رفتار، بین الاقوامی تجارت اور کاروباری سرگرمیوں پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

