دنیا

جنگ میں ہم فاتح رہے، امریکہ سے معاہدہ ایک دو دن میں ممکن ہے: عباس عراقچی

📷 Photo Credit to Social Media

جنگ میں ہم فاتح رہے، امریکہ کے ساتھ ایک دو دن میں معاہدہ ممکن ہے، عباس عراقچی

تہران: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور امکان ہے کہ آئندہ ایک یا دو دن، یا چند روز کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سمیت کئی اہم امور پر پیش رفت متوقع ہے۔

بی بی سی فارسی کو دیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکراتی عمل اپنے فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے اور دونوں فریق ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں کسی بھی وقت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق زیرِ غور معاہدہ 14 نکات پر مشتمل ہوگا اور اس کی تمام تفصیلات مرحلہ وار عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے میڈیا اور تجزیہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ معاہدے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں تاکہ مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات قبل از وقت اطلاعات حساس سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس لیے حتمی اعلان تک احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق فریقین کے درمیان زیرِ غور مفاہمتی یادداشت حجم کے اعتبار سے صرف ڈیڑھ سے دو صفحات پر مشتمل ہے، تاہم اس مختصر دستاویز کے پیچھے دو ماہ سے زائد عرصے پر محیط تفصیلی مذاکرات اور مشاورت شامل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی ہر شق کا متعدد مرتبہ جائزہ لیا گیا اور مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے غور کیا گیا تاکہ دونوں جانب کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران کی قومی سلامتی کونسل اور دیگر متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مسلسل اعتماد میں لیا جاتا رہا ہے۔ ان کے بقول ایرانی مسلح افواج بھی مذاکرات سے جڑے اہم معاملات، خصوصاً جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے اور اس پر ایران اور عمان کی خودمختاری تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس راستے سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات مفت رہی ہیں، تاہم مستقبل میں اس کے انتظامی طریقۂ کار اور بعض عملی امور میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک عبوری مرحلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ معاہدہ نافذ العمل نہ ہو سکا تو ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت مستقبل میں وسیع تر سفارتی اقدامات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔

عباس عراقچی نے جنگ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس تنازع کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی قومی سلامتی، دفاعی صلاحیت اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو اس جنگ کا فاتح سمجھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر بھی عبوری نوعیت کے معاہدوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان کی صورتحال بھی اس عمل کا حصہ ہے اور وہاں کسی ممکنہ جنگ بندی یا سیاسی سمجھوتے کے لیے اسرائیلی افواج کا انخلا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔

عباس عراقچی کے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے تعلقات، اور خطے میں جاری تنازعات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تاہم تاحال امریکہ کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے یا عباس عراقچی کے دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں واقعی کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، آبنائے ہرمز میں بحری تجارت اور پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories