لکھنؤ کوچنگ سینٹر آتشزدگی: المناک حادثے میں 15 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
لکھنؤ: اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں اکثریت 16 سے 25 سال کی عمر کے طلبہ کی بتائی جا رہی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
کوچنگ سینٹر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی
تفصیلات کے مطابق علی گنج کے پورانیا علاقے میں ایک تجارتی عمارت کے اوپری حصے میں قائم اینیمیشن کوچنگ سینٹر میں دوپہر کے وقت اچانک آگ لگ گئی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود طلبہ اور عملے میں بھگدڑ مچ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دھواں تیزی سے مختلف کمروں میں پھیل گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ کئی طلبہ کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ شدید دھوئیں اور گھبراہٹ کے باعث متعدد افراد عمارت کے اندر ہی پھنس گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں جھلسنے کے بجائے دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔
عمارت میں کئی تجارتی ادارے قائم تھے
ذرائع کے مطابق جس عمارت میں آگ لگی، وہاں کوچنگ سینٹر کے علاوہ مختلف دکانیں، شوروم اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔ واقعے کے وقت عمارت میں بڑی تعداد میں طلبہ موجود تھے جو کلاسوں میں مصروف تھے۔
جب آگ نے شدت اختیار کی تو کئی افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے پہلی منزل سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔ بعض طلبہ معمولی اور بعض شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ چھ افراد کو کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (KGMU) میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو آپریشن میں دیوار توڑ کر داخل ہونا پڑا
واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے آگ پر قابو پانے اور عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق شدید دھوئیں اور آگ کی شدت کے باعث عمارت کے اندر داخل ہونا انتہائی مشکل تھا۔ ریسکیو ٹیموں نے بعض مقامات پر دیواریں توڑ کر اندر جانے کا راستہ بنایا اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کی کوشش کی۔
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم اس وقت تک متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی تھیں۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کرے گی
اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی اس بات کی بھی تحقیق کرے گی کہ آیا عمارت میں فائر سیفٹی کے ضروری انتظامات موجود تھے یا نہیں۔
برجیش پاٹھک نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا سخت نوٹس
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ دار افراد کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے طے شدہ دورے ادھورے چھوڑ کر فوری طور پر لکھنؤ واپسی کا فیصلہ کیا۔ وہ موقع پر پہنچے، جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
بعد ازاں انہوں نے اسپتال جا کر زخمی طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور علاج کے بہترین انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
قومی رہنماؤں کا اظہارِ افسوس
صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیر اعظم نریندر مودی، قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے لکھنؤ کے المناک آتشزدگی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
رہنماؤں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور حکومت سے واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پورا ملک سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی حادثے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے متاثرین کے لیے انصاف اور بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
حفاظتی انتظامات پر سوالات
اس افسوسناک واقعے کے بعد ایک بار پھر تعلیمی اداروں اور تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوچنگ سینٹروں اور دیگر نجی اداروں میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دل دہلا دینے والے سانحات سے بچا جا سکے۔
مقامی شہریوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تعلیمی و تجارتی عمارتوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کرایا جائے اور جہاں قواعد کی خلاف ورزی پائی جائے وہاں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ملک بھر میں غم کی لہر
لکھنؤ کا یہ المناک حادثہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا صدمہ بن گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والے بیشتر طلبہ اپنے بہتر مستقبل کے خواب لیے تعلیم حاصل کر رہے تھے، مگر ایک لمحے میں ان کے خواب اور امیدیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے سبق لیتے ہوئے تعلیمی اداروں، کوچنگ مراکز اور تجارتی عمارتوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو اپنے پیاروں کی ایسی المناک جدائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

