دنیا

امریکہ نے32 سال بعد فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں، آسٹریلیا کو 2-0 سے شکست دی

📷 Image credit to Social Media

امریکہ 32 سال بعد فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں، آسٹریلیا کو 2-0 سے شکست

سیئٹل: میزبان امریکہ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 2-0 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) میں جگہ بنا لی۔ اس کامیابی کے ساتھ امریکی ٹیم نے 32 سال بعد ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا، جس پر امریکی شائقینِ فٹبال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

سیئٹل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اہم گروپ میچ میں امریکہ نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور آسٹریلوی دفاع پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ اگرچہ ٹیم کے اسٹار فارورڈ کرسچین پولیسک پنڈلی کی انجری کے باعث اس میچ میں شرکت نہ کر سکے، تاہم ان کی غیر موجودگی کے باوجود امریکی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل دوسری فتح اپنے نام کی۔

ابتدائی منٹوں میں امریکہ کو برتری

میچ کے آغاز کے صرف 11ویں منٹ میں امریکہ کو اس وقت برتری حاصل ہوئی جب فارورڈ فولارن بالوگن کی جانب سے دیے گئے خطرناک کراس کو روکنے کی کوشش میں آسٹریلوی مدافع کیمرون برگیس سے غلطی ہو گئی اور گیند ان کے ہی جال میں جا پہنچی۔ اس خود ساختہ گول نے امریکہ کو 1-0 کی برتری دلا دی۔

اس گول کے بعد آسٹریلیا نے مقابلے میں واپسی کی کوشش کی اور چند خطرناک حملے بھی کیے، لیکن امریکی دفاع نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ امریکی گول کیپر اور دفاعی کھلاڑیوں نے منظم کھیل پیش کرتے ہوئے آسٹریلوی فارورڈز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔

الیکس فری مین کا یادگار گول

پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں امریکہ نے اپنی برتری کو دگنا کر دیا۔ 43ویں منٹ میں سرجینو ڈیسٹ کی جانب سے کی گئی کوشش آسٹریلوی دفاع سے ٹکرا کر تبدیل ہو گئی، جس کے بعد نوجوان کھلاڑی الیکس فری مین نے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔

ابتدائی طور پر گول کے حوالے سے آف سائیڈ کا شبہ ظاہر کیا گیا، تاہم ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کی جانچ کے بعد گول کو درست قرار دے دیا گیا۔ 21 سالہ الیکس فری مین کے کیریئر کا یہ پہلا ورلڈ کپ گول تھا، جس نے ان کے لیے اس میچ کو یادگار بنا دیا۔

دوسرے ہاف میں آسٹریلیا کی کوششیں ناکام

دوسرے ہاف میں آسٹریلیا نے خسارہ کم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور جارحانہ انداز اپنایا، لیکن امریکی دفاعی لائن مسلسل مستعد رہی۔ آسٹریلوی کھلاڑی کئی مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم وہ کسی بھی موقع کو گول میں تبدیل نہ کر سکے۔

امریکی ٹیم نے بھی جوابی حملوں کے ذریعے مزید گول کرنے کی کوشش کی، مگر اسکور میں اضافہ نہ ہو سکا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرے ہاف میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم نتیجہ پہلے ہاف کے اسکور کے مطابق ہی برقرار رہا۔

32 سال بعد تاریخی کامیابی

اس فتح کے ساتھ امریکہ نے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کر لی، جو امریکی فٹبال کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 1994 کے بعد پہلی مرتبہ امریکی ٹیم نے میزبان کی حیثیت سے ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں اتنی مضبوط کارکردگی دکھاتے ہوئے اگلے مرحلے میں جگہ بنائی ہے۔

فٹبال ماہرین کے مطابق امریکی ٹیم نے نظم و ضبط، دفاعی مضبوطی اور مؤثر حملوں کی بدولت یہ کامیابی حاصل کی۔ خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی نے شائقین اور کوچنگ اسٹاف کو بے حد متاثر کیا ہے۔

ترکی ورلڈ کپ سے باہر

دوسری جانب گروپ کے ایک اور اہم مقابلے میں پیراگوئے نے ترکی کو شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ اس نتیجے کے بعد ترکی کی اگلے مرحلے میں رسائی کی امیدیں ختم ہو گئیں، جبکہ پیراگوئے نے اپنی مہم کو زندہ رکھا۔

اگلے مرحلے کی تیاری

ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کے بعد امریکی ٹیم اب مزید مضبوط حریفوں کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کوچنگ اسٹاف کو امید ہے کہ زخمی اسٹار فارورڈ کرسچین پولیسک اگلے میچوں تک مکمل فٹنس حاصل کر لیں گے، جس سے ٹیم کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔

امریکی شائقین اب پُرامید ہیں کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ 2026 میں مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے تاریخ رقم کرے گی، جبکہ آسٹریلیا کو اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے اپنے باقی میچوں میں بہتر نتائج درکار ہوں گے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories