کینیڈا

کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز، اے آئی چیٹ بوٹس مستثنیٰ

📷 Credit: Socail Media

اوٹاوا: کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز، اے آئی چیٹ بوٹس مستثنیٰ

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے بدھ کے روز آن لائن نقصانات سے متعلق ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم اس قانون میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹس کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

“سیف سوشل میڈیا ایکٹ” کے نام سے پیش کیے گئے اس مجوزہ قانون کا مقصد بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں اور اے آئی چیٹ بوٹ پلیٹ فارمز پر یہ ذمہ داری عائد کی جائے گی کہ وہ بچوں کے لیے عمر کے مطابق محفوظ ماحول فراہم کریں، جس میں انتباہی لیبل، محفوظ سرچ سیٹنگز اور مسلسل اسکرولنگ جیسی لت پیدا کرنے والی خصوصیات کو محدود کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔

قانون میں پلیٹ فارمز کے لیے “ذمہ دارانہ عمل” کی شرط بھی رکھی گئی ہے، جس کے تحت اے آئی چیٹ بوٹس کو نقصان دہ مواد یا رویوں کے فروغ سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی صارف خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے یا تشدد کا اظہار کرے تو اے آئی کمپنیوں کو فوری مداخلت کے خصوصی پروٹوکول نافذ کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے مواد کی واضح نشاندہی کرنا ہوگی جو بوٹس کے ذریعے پھیلایا گیا ہو یا “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا ہو۔

کینیڈا کے وزیر ثقافت مارک ملر نے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ والدین اکیلے ان چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتے، اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے بنیادی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔”

قانون کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے جنسی استحصال، غیر رضامندی سے شیئر کیے گئے نجی مواد اور متاثرین کو دوبارہ نقصان پہنچانے والے مواد کو فوری طور پر ہٹانا ہوگا۔

حکومت اس قانون پر عمل درآمد اور نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل سیفٹی کمیشن قائم کرے گی، جس کے بارے میں وزیر ثقافت نے کہا کہ یہ ادارہ آئندہ 18 ماہ کے اندر کام شروع کر دے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی کمپنی نقصان دہ مواد کو خود نہیں ہٹاتی تو شہری براہ راست کمیشن کے پاس شکایت درج کرا سکیں گے۔ شکایت موصول ہونے کے بعد متعلقہ مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانا لازمی ہوگا۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 1 کروڑ کینیڈین ڈالر یا ان کی عالمی آمدنی کے 3 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

تاہم اس قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں صارفین کی عمر کی تصدیق کس طریقے سے کریں گی۔ اس حوالے سے پرائیویسی کے حامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کمپنیاں سرکاری شناختی دستاویزات یا صارفین کے آن لائن رویوں کی نگرانی کے ذریعے عمر معلوم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

مارک ملر نے کہا کہ کمپنیوں کو شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی مخصوص طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی۔

وزیر ثقافت سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز کے باوجود اے آئی چیٹ بوٹس کو اس پابندی میں کیوں شامل نہیں کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے میں ابھی مزید غور و خوض کی ضرورت ہے اور اس وقت ایسی پابندی عائد کرنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ مجوزہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت ان خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories