کینیڈا

مونٹریال فائرنگ: پولیس افسر سمیت تین افراد ہلاک

📷 Image credit to Social Media

دن دہاڑے فائرنگ کے واقعے نے کینیڈا کو ہلا کر رکھ دیا

مونٹریال: کینیڈا کے شہر مونٹریال میں پیر کے روز پیش آنے والے ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک پولیس افسر، ایک شہری اور مسلح حملہ آور ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے نے نہ صرف مونٹریال بلکہ پورے کینیڈا کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دوپہر کے وقت مونٹریال کے متنوع آبادی والے علاقے کوٹ دے نیژ (Côte-des-Neiges) میں پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور اکیلا تھا اور اس نے کسی منظم گروہ کے ساتھ مل کر کارروائی نہیں کی۔ پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے مسلح شخص کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

عینی شاہد کی اطلاع پر پولیس حرکت میں آئی

تحقیقاتی حکام کے مطابق ایک مقامی شہری نے ایک عمارت کی کھڑکی سے بندوق باہر نکلی ہوئی دیکھی اور فائرنگ کی آوازیں سننے کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس کے جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ اسی دوران ایک پولیس افسر اور ایک عام شہری جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک اور پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

طبی ذرائع کے مطابق زخمی اہلکار کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والے افسر کی شناخت

مونٹریال پولیس سروس نے بعد ازاں ہلاک ہونے والے افسر کی شناخت محمد لامین بن ردوان کے نام سے کی۔ 34 سالہ محمد لامین بن ردوان 2021 میں مونٹریال پولیس فورس میں شامل ہوئے تھے اور مختصر مدت میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور فرض شناسی کی وجہ سے ساتھی اہلکاروں میں نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔

مونٹریال پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ان کی یاد میں تمام سرکاری پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔

پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ محمد لامین بن ردوان کو ان کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ دیانت داری اور عوامی خدمت کے جذبے کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پولیس چیف جذباتی ہو گئے

واقعے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں مونٹریال پولیس چیف فیڈی داگھر انتہائی جذباتی نظر آئے۔

انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“یہ ایک خوفناک خواب ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پولیس فورس اپنے ایک بہادر ساتھی کے نقصان پر گہرے دکھ اور صدمے میں مبتلا ہے۔

پولیس چیف نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کی بھی جان چلی گئی

فائرنگ کے اس افسوسناک واقعے میں ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت مائیکل موشے مزراحی کے نام سے کی گئی ہے۔

کینیڈا کی معروف تنظیم سینٹر فار اسرائیل اینڈ جیوش افیئرز نے انہیں مونٹریال کی یہودی برادری کا ایک نہایت محترم اور محبوب رکن قرار دیا ہے۔

تنظیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مائیکل مزراحی ایک بے گناہ شہری تھے جو اس المناک واقعے کا شکار بنے۔

پولیس نے تاحال یہ نہیں کہا کہ حملہ کسی مخصوص مذہبی یا نسلی گروہ کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا، اس لیے واقعے کو فی الحال نفرت انگیز جرم یا یہود مخالف حملہ قرار نہیں دیا گیا۔

حملے کا مقصد تاحال نامعلوم

کیوبیک کے وزیر برائے عوامی تحفظ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر حملہ آور کے محرکات واضح نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کار مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملہ آور نے فائرنگ کیوں کی اور آیا اس کے پیچھے کوئی نظریاتی، سیاسی یا ذاتی وجہ موجود تھی یا نہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت اور پس منظر سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

تقریباً 25 سال بعد پولیس افسر کی شہادت

مونٹریال پولیس کے مطابق یہ تقریباً ایک چوتھائی صدی بعد پہلا موقع ہے جب شہر میں کوئی پولیس افسر ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوا ہے۔

اسی وجہ سے یہ واقعہ پولیس فورس اور عوام دونوں کے لیے انتہائی صدمے کا باعث بنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں پولیس اہلکاروں پر مہلک حملوں کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ واقعہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

مبینہ دستاویز کی بھی تحقیقات

کینیڈین اخبار دی گلوب اینڈ میل کی ایک رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے بعد رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس (RCMP) نے ملک بھر کی پولیس ایجنسیوں کو ایک انتباہی پیغام جاری کیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک ایسی دستاویز کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں جس میں شہریوں کو پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور حکام نے کہا ہے کہ اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

شہر میں سوگ کی فضا

واقعے کے بعد مونٹریال میں سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں نے بھی سوشل میڈیا پر ہلاک ہونے والے پولیس افسر اور عام شہری کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories