کینیڈا

آئرلینڈ کے دورے میں وزیرِ اعظم مارک کارنی کی اپنے آبائی گاؤں آمد، مقامی افراد کا پرتپاک استقبال

📷 Image Credit to Social Media

آئرلینڈ کے دورے میں وزیرِ اعظم مارک کارنی کی اپنے آبائی گاؤں آمد، مقامی افراد کا پرتپاک استقبال

ڈبلن/آغاگاور – کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے آئرلینڈ کے سرکاری دورے کے دوران اپنے خاندان کے آبائی گاؤں آغاگاور کا دورہ کیا، جہاں مقامی شہریوں نے ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ گاؤں کی سڑکوں پر کینیڈین پرچم لہرائے گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے وزیرِ اعظم کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہو کر ان کا استقبال کیا۔

اتوار کی صبح مارک کارنی آغاگاور میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ پہنچے، جہاں انہوں نے عبادت میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقامی افراد نے “ویلکم ہوم” کے نعروں کے ساتھ ان کا خیرمقدم کیا۔ گاؤں کے متعدد رہائشی اور دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد بھی اس تاریخی موقع کے گواہ بنے۔

آئرلینڈ میں مقیم کینیڈین شہری میری روز کونل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ ایک یادگار دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چھوٹے بیٹے کے لیے وزیرِ اعظم سے ملاقات ایک منفرد تجربہ تھا۔ مارک کارنی نے ملاقات کے دوران بچے کو گود میں اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا، “یہ سب تمہارے لیے ہے۔”

دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے اپنے پردادا اور پردادی کی قبروں پر بھی حاضری دی۔ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں قبرستان کے قریب ایک آئرش بلوط کا پودا بھی لگایا، جسے ان کے اس دورے کی یادگار قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ اس دورے کا ایک پہلو ذاتی نوعیت کا تھا، تاہم اس میں سرکاری مصروفیات بھی شامل تھیں۔ مارک کارنی نے آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے کینیڈا اور آئرلینڈ کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں قریبی شراکت داری اور دوطرفہ تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

آغاگاور کے دورے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا آئرلینڈ اور یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو وسعت دینا دونوں فریقین کے مفاد میں ہے۔

مارک کارنی نے کہا، “ہم موجودہ صورتحال پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے۔ ہمیں یقین ہے کہ آئرلینڈ اور وسیع تر یورپی یونین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں بے شمار نئے مواقع موجود ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جولائی سے آئرلینڈ یورپی یونین کی چھ ماہ کی صدارت سنبھالنے جا رہا ہے، جس کے دوران مسابقتی معیشت، تجارتی روابط میں وسعت اور غیر ضروری ضوابط میں کمی جیسے امور پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

یہ ملاقات ایک روز بعد ہوئی جب مارک کارنی اور آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم (تاؤشخ) مائیکل مارٹن نے مصنوعی ذہانت، دواسازی، بائیو ٹیکنالوجی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔

دورے کے اختتام سے قبل مارک کارنی کو آئرلینڈ کی قومی پولیس اور سیکیورٹی سروس “این گارڈا شیوکھانا” کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے خصوصی یادگاری تختی بھی پیش کی گئی۔ یہ اعزاز ان کے خاندانی پس منظر کے اعتراف میں دیا گیا، کیونکہ ان کے دادا رابرٹ کارنی 1922 میں اس فورس کے قیام کے وقت ابتدائی اہلکاروں میں شامل تھے۔

ادھر آغاگاور میں مقامی کاروباری برادری نے بھی وزیرِ اعظم کے دورے کو منفرد انداز میں منایا۔ مقامی دکاندار جے پی اسکاٹ نے مارک کارنی کے اعزاز میں ایک خصوصی آئس کریم ڈیزرٹ متعارف کرایا جسے “مارکز میپل سنڈے” کا نام دیا گیا۔ اس میں میپل سیرپ شامل کیا گیا ہے، جو کینیڈا کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

جے پی اسکاٹ کے مطابق جب سے مارک کارنی کینیڈا کے وزیرِ اعظم بنے ہیں، آغاگاور میں کینیڈین سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد کینیڈین شہری صرف وزیرِ اعظم کے خاندانی پس منظر اور گاؤں کو دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مارک کارنی کا یہ دورہ نہ صرف ان کی ذاتی اور خاندانی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ کینیڈا اور آئرلینڈ کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سفارتی روابط کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories