آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ایڈیٹر مارسیا لوکاس کینسر کے باعث 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں
لاس اینجلس: ہالی ووڈ کی معروف فلم ایڈیٹر اور آسکر ایوارڈ یافتہ شخصیت مارسیا لوکاس 80 برس کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کرگئیں۔ ان کی وفات کی تصدیق اہلِ خانہ کے وکیل کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد فلمی دنیا میں افسوس کی لہر دوڑ گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارسیا لوکاس میٹاسٹیٹک کینسر میں مبتلا تھیں اور 27 مئی کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر رینچو میراج میں واقع اپنی رہائش گاہ پر اہلِ خانہ کی موجودگی میں انتقال کرگئیں۔
مارسیا لوکاس کا شمار ہالی ووڈ کی ان بااثر خواتین میں ہوتا تھا جنہوں نے فلم ایڈیٹنگ کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہیں 1977 میں ریلیز ہونے والی شہرۂ آفاق سائنس فکشن فلم “اسٹار وارز” (Star Wars) کی ایڈیٹنگ پر اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) سے نوازا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ 1978 کی آسکر تقریب میں انہیں پال ہرش اور رچرڈ چیو کے ساتھ مشترکہ طور پر ملا تھا۔
فلمی ناقدین کے مطابق مارسیا لوکاس نے “اسٹار وارز” کی کامیابی میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ انہوں نے فلم کے کئی اہم مناظر کی ایڈیٹنگ کے ذریعے کہانی میں جذباتی گہرائی اور ڈرامائی اثر پیدا کیا، جسے آج بھی فلمی تاریخ کی بہترین ایڈیٹنگ مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
مارسیا لوکاس نے اپنے سابق شوہر اور “اسٹار وارز” کے خالق George Lucas کے ساتھ متعدد فلمی منصوبوں پر کام کیا۔ ان کی نمایاں فلموں میں “THX 1138”، “American Graffiti” اور 1983 میں ریلیز ہونے والی “Return of the Jedi” شامل ہیں۔ “امریکن گرافٹی” کی ایڈیٹنگ پر بھی انہیں آسکر نامزدگی حاصل ہوئی تھی۔
انہوں نے صرف جارج لوکاس کے ساتھ ہی نہیں بلکہ معروف ہدایت کار Martin Scorsese کی کئی کلاسک فلموں میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ “Taxi Driver”، “Alice Doesn’t Live Here Anymore” اور “New York, New York” کی ایڈیٹنگ ٹیم کا اہم حصہ رہیں۔ ان فلموں کو آج بھی عالمی سینما کے اہم ترین فن پاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
مارسیا لوکاس 4 اکتوبر 1945 کو کیلیفورنیا کے شہر موڈیستو میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے فلمی صنعت میں اپنے کیریئر کا آغاز بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کیا اور بعد ازاں ہالی ووڈ کی کامیاب ترین ایڈیٹرز میں شامل ہوگئیں۔ فلمی ماہرین کے مطابق ان کی ایڈیٹنگ کی خاص بات جذباتی مناظر کو مؤثر انداز میں پیش کرنا اور کہانی کے بہاؤ کو مضبوط بنانا تھا۔
ذاتی زندگی میں مارسیا لوکاس نے 1969 میں جارج لوکاس سے شادی کی تھی۔ دونوں نے کئی برس تک ایک ساتھ کام کیا اور فلمی دنیا کی معروف جوڑی سمجھے جاتے رہے، تاہم 1983 میں ان کی طلاق ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے ٹام روڈریگز سے شادی کی، لیکن یہ رشتہ بھی 1993 میں ختم ہوگیا۔
ان کی وفات پر اہلِ خانہ نے انہیں فلمی دنیا کی ایک “ٹریل بلیزر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارسیا لوکاس نے نہ صرف فلم ایڈیٹنگ کے فن کو نئی جہت دی بلکہ ہالی ووڈ میں خواتین کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کیں۔
مارسیا لوکاس اپنے پیچھے دو بیٹیوں، پوتے پوتیوں اور ایک ایسی فلمی میراث چھوڑ گئی ہیں جسے ہالی ووڈ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ فلمی ماہرین کے مطابق “اسٹار وارز” سمیت کئی کلاسک فلموں کی کامیابی میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

