تفریح

کالا ہرن فلم: سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے جھٹکا، سماعت یکم جولائی تک ملتوی

📷 File Photo

‘کالا ہرن’ فلم: سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا، فوری راحت نہ مل سکی، سماعت یکم جولائی تک ملتوی

نئی دہلی: بالی ووڈ کے معروف اداکار Salman Khan کو اپنی مجوزہ فلم “کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے فلم کی ریلیز، تشہیر، مارکیٹنگ اور اسٹریمنگ پر فوری پابندی عائد کرنے کی درخواست پر فوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے سماعت یکم جولائی 2026 تک ملتوی کر دی ہے۔

اس فیصلے کے بعد سلمان خان کو فی الحال کوئی عبوری راحت حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ فلم کے پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔

سلمان خان کی درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟

سلمان خان نے حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم “کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” ان کی زندگی، عوامی شخصیت اور ان سے منسلک مشہور “کالا ہرن کیس” کے پس منظر کو بنیاد بنا کر تیار کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ فلم سازوں نے ان کی اجازت یا رضامندی کے بغیر ان کے نام، شہرت اور عوامی شناخت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، جو ان کے پرسنالٹی رائٹس اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

سلمان خان کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ فلم کی ریلیز کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیری مہم، مارکیٹنگ، ڈیجیٹل پروموشن اور کسی بھی اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر نمائش کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

عدالت نے سماعت کیوں ملتوی کی؟

دہلی ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران فلم کے پروڈیوسرز اور دیگر فریقین کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا۔

اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے عدالت نے کیس کی سماعت یکم جولائی 2026 تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی مکمل کاپی فلم کے پروڈیوسرز اور دیگر متعلقہ فریقین کو فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے جواب کی تیاری کر سکیں۔

عدالت کے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اگلی سماعت تک فلم کے خلاف کسی قسم کا عبوری حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی ریلیز یا تشہیر پر فوری پابندی لگائی گئی ہے۔

سلمان خان کے وکیل نے کیا دلائل دیے؟

سلمان خان کی نمائندگی سینئر وکیل سندیپ سیٹھی نے کی۔ انہوں نے عدالت سے فوری عبوری حکم جاری کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ فلم ساز اداکار کی زندگی اور عوامی شناخت کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کر رہے ہیں۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فلم کے ذریعے سلمان خان کی ذاتی زندگی اور ان سے وابستہ قانونی معاملات کو تجارتی فائدے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، جو غیر قانونی ہے۔

سندیپ سیٹھی نے عدالت کے روبرو کہا:

“وہ میری مؤکل کی زندگی پر فلم بنا رہے ہیں اور قانونی نوٹسز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انہیں سلمان خان کی زندگی پر فلم بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ہم فوری عبوری حکم امتناعی کی درخواست کر رہے ہیں کیونکہ فلم کا ٹیزر پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو سلمان خان کی ساکھ اور قانونی حقوق کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فلم کے ٹیزر نے تنازع کو جنم دیا

ذرائع کے مطابق “کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کا ٹیزر پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے، جس کے بعد سلمان خان کی قانونی ٹیم نے عدالت سے رجوع کیا۔

سلمان خان کا دعویٰ ہے کہ فلم میں ایسے واقعات اور کردار دکھائے گئے ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی زندگی اور ان سے منسلک مشہور مقدمے کی یاد دلاتے ہیں، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔

اگلی سماعت پر نظریں مرکوز

قانونی ماہرین کے مطابق یکم جولائی کو ہونے والی اگلی سماعت اس معاملے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر عدالت سلمان خان کے دلائل سے اتفاق کرتی ہے تو فلم کی ریلیز یا اس کی تشہیری سرگرمیوں پر عارضی یا مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسرز کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملے گا، جس کے بعد عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا واقعی سلمان خان کے پرسنالٹی رائٹس کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

فی الحال عدالت کی جانب سے کوئی عبوری حکم جاری نہ ہونے کے باعث فلم کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ بالی ووڈ اور قانونی حلقوں کی نظریں یکم جولائی کو ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories