USA

ایران کیساتھ ابھی معاہدہ نہیں ہوا، دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں: امریکی نائب صدر

📷 No deal with Iran yet, both countries very close to agreement: US Vice President

ایران کیساتھ ابھی معاہدہ نہیں ہوا، دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے پر کافی حد تک پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم ابھی چند اہم نکات پر بات چیت جاری ہے جن پر اتفاق ہونا باقی ہے۔

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مرحلے پر معاہدے کی مکمل منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جب مزید پیش رفت مکمل ہو جائے گی اور تمام بنیادی نکات پر اتفاق رائے قائم ہو جائے گا تو صدر ٹرمپ معاہدے کی توثیق کی پوزیشن میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مثبت سمت میں جاری ہے اور فریقین کئی معاملات پر ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اس پوزیشن میں ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیل سکتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں اور مذاکراتی عمل جاری رہیں گے۔

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر کب دستخط کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی عمل میں وقت لگتا ہے اور حتمی فیصلے سے قبل تمام تکنیکی اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر ابتدائی اتفاق ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

ایگزیوس نے اپنے ذرائع کے حوالے سے مزید کہا تھا کہ اگرچہ ابتدائی سطح پر مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس کی حتمی منظوری نہیں دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صدر کی منظوری کے بغیر یہ عمل مکمل نہیں ہو سکتا اور اسی وجہ سے حتمی معاہدے میں تاخیر کا امکان موجود ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کی سب سے بڑی سفارتی پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید سخت، تفصیلی اور تکنیکی نوعیت کے مذاکرات درکار ہوں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور فریقین اس کوشش میں ہیں کہ کسی ایسے فریم ورک پر اتفاق کیا جائے جو نہ صرف فوری کشیدگی کو کم کرے بلکہ مستقبل میں طویل المدتی حل کی بنیاد بھی فراہم کرے۔ تاہم فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور حتمی معاہدے کے لیے مزید پیش رفت ضروری قرار دی جا رہی ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories