کمیٹی نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر مجوزہ حلقہ بندی کو وفاقی ڈھانچے، جمہوری نمائندگی اور سماجی انصاف کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ عمل جنوبی ریاستوں کو غیر منصفانہ طور پر نقصان پہنچائے گا، اقلیتوں اور کمزور طبقات کی نمائندگی متاثر ہوگی،
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا مطالبہ کرتی ہے کہ تمام بے دخلی اور انہدامی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ قوانین کو کسی بھی مذہبی یا سماجی طبقے کے خلاف امتیازی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی وفاقی ورکنگ کمیٹی کا دو روزہ اجلاس 25 اور 26 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر رئیس الدین نے کی، جب کہ کارروائی قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے چلائی۔ قومی جنرل سکریٹری محترمہ شیما محسن نے مختلف قومی، سیاسی اور عوامی مسائل سے متعلق قراردادیں ایوان کے سامنے پیش کیں۔ تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد تمام قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔
1۔ خصوصی نظرِ ثانی برائے ووٹر فہرست (SIR):
وفاقی ورکنگ کمیٹی نے کہا کہ اسپیشل اِنٹینسیو ریویژن (SIR) کے نام پر ووٹر فہرستوں سے من مانے انداز میں نام خارج کیے جا رہے ہیں، جبکہ پورا عمل غیر شفاف، غیر جواب دہ اور آئینی تقاضوں سے عاری ہے۔ اس کارروائی کا سب سے زیادہ نشانہ مہاجر مزدور، اقلیتی برادریاں اور سماج کے محروم طبقات بن رہے ہیں۔ انتخابات سے قبل اس عمل کے ذریعے خوف، بے یقینی اور بداعتمادی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔
مطالبہ: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا مطالبہ ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی مکمل شفافیت، غیر جانب داری اور آئینی تحفظات کے ساتھ کی جائے۔ کسی بھی اہل ووٹر کا نام بلا جواز حذف نہ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن ضلع وار اعداد و شمار جاری کرے اور گھر گھر جا کر تصدیق کے عمل کو یقینی بنائے۔
2۔ حلقہ بندی (Delimitation):
کمیٹی نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر مجوزہ حلقہ بندی کو وفاقی ڈھانچے، جمہوری نمائندگی اور سماجی انصاف کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ عمل جنوبی ریاستوں کو غیر منصفانہ طور پر نقصان پہنچائے گا، اقلیتوں اور کمزور طبقات کی نمائندگی متاثر ہوگی، جبکہ ان ریاستوں کو سزا ملے گی جنہوں نے آبادی پر مؤثر کنٹرول قائم کیا اور ترقیاتی شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔
مطالبہ: پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حلقہ بندی کے عمل کو فوری طور پر منجمد کیا جائے۔ کسی بھی ریاست کی موجودہ پارلیمانی نشستوں میں کمی نہ کی جائے، اور اس حساس معاملے پر کسی بھی فیصلے سے قبل آل پارٹی اجلاس بلا کر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
3۔ طلبہ کی تاریخی تحریک:وفاقی ورکنگ کمیٹی نے طلبہ کی بے مثال جرأت، استقامت اور جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پرامن تحریک نے نہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا بلکہ ملک کے امتحانی نظام میں پھیلی بدعنوانی اور نوجوانوں کو درپیش بے روزگاری کے سنگین بحران کو بھی پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کر دیا۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے بجائے لاٹھی، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔
مطالبات:
· تعلیمی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اصلاحات کی جائیں۔
· زخمی طلبہ اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
· گرفتار تمام طلبہ اور ان کے حامیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
· پرامن مظاہرین پر تشدد کرنے والے پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ حکومت کی ذمہ داری نظام کی خرابیوں کو دور کرنا ہے، نہ کہ ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزا دینا۔
4۔ حکومتِ گجرات کی متنازعہ اینٹی ریڈیکلائزیشن ایس او پی:
وفاقی ورکنگ کمیٹی نے گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو کی افشا شدہ اینٹی ریڈیکلائزیشن SOP پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ داڑھی رکھنا، نقاب پہننا، عربی انداز میں سلام کرنا اور اعتکاف جیسے معمول کے اسلامی شعائر کو “شدت پسندی کی علامات” قرار دینا نہ صرف مذہبی آزادی پر حملہ ہے بلکہ مسلمانوں کو مشتبہ بنانے کی ایک خطرناک سرکاری ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی مذہبی پروفائلنگ آئین ہند کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25 اور 26 کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی اعتماد شدید متاثر ہوگا۔
مطالبہ: پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ایس او پی کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ قومی سلامتی کے نام پر کسی بھی مذہبی شناخت کو ہدف بنانا ناقابل قبول ہے۔ حکومت قانون، ثبوت اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر کام کرے، نہ کہ تعصبات اور مذہبی دقیانوسی تصورات کے تحت۔
5۔ یکساں سول کوڈ UCC)):
وفاقی ورکنگ کمیٹی نے یکساں سول کوڈ کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی مذہبی آزادی، ثقافتی تنوع اور مختلف برادریوں کے شخصی قوانین پر براہِ راست حملہ ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی کثرت میں وحدت اور تہذیبی تنوع میں مضمر ہے، نہ کہ جبری یکسانیت میں۔
پارٹی نے کہا کہ انتخابات سے قبل یو سی سی کا مسئلہ اٹھانا ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ایک سیاسی کوشش ہے، تاکہ بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر بنیادی عوامی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔
مطالبہ: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا مطالبہ ہے کہ یو سی سی کو زبردستی نافذ کرنے کی ہر کوشش ترک کی جائے۔ اگر کسی اصلاح کی ضرورت ہو تو وہ مکالمے، اتفاقِ رائے، انصاف اور متعلقہ برادریوں کے اندر صنفی مساوات کے اصولوں کے مطابق انجام دی جائے۔
6۔ جوہر یونیورسٹی، رام پور:
وفاقی ورکنگ کمیٹی نے جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کارروائی کے حکم کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی فرقہ وارانہ اور انتقامی سیاست کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے بلڈوزر کارروائیوں کے بارے میں دی گئی ہدایات کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اس اقدام سے دو ہزار سے زائد طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے اور برسوں کی علمی و تعلیمی محنت برباد ہونے کا اندیشہ ہے۔ کسی تعلیمی ادارے کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اعلیٰ تعلیم اور جمہوری اقدار دونوں کے لیے نقصان دہ مثال قائم کرے گا۔
مطالبہ: پارٹی نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کارروائی کا حکم فوری طور پر واپس لیا جائے، یونیورسٹی کو مکمل سرکاری منظوری اور ضروری تعاون فراہم کیا جائے، اور تعلیمی اداروں کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
7۔ ہند۔پاک سرحد سے متصل پچاس کلومیٹر کے علاقے میں مساجد، مدارس اور درگاہوں کو بے دخلی کے نوٹس:
وفاقی ورکنگ کمیٹی نے راجستھان میں ہند۔پاک سرحد سے متصل پچاس کلومیٹر کے علاقے میں واقع مساجد، مدارس اور درگاہوں کو قومی سلامتی کے نام پر بے دخلی کے نوٹس جاری کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی اقدار اور مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سرحدی علاقوں کی سلامتی کو کبھی بھی عبادت گاہوں سے خطرہ لاحق نہیں رہا۔ درحقیقت یہ کارروائی ہندوستانی مسلمانوں کو ہراساں کرنے، انہیں مشتبہ بنانے اور سرحدی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی ایک غیر منصفانہ کوشش ہے۔
مطالبہ: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا مطالبہ کرتی ہے کہ تمام بے دخلی اور انہدامی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ قوانین کو کسی بھی مذہبی یا سماجی طبقے کے خلاف امتیازی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ہندوستان کا دستور ہر شہری کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

