سیاست

آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کا الزام، بلاول بھٹو کا ن لیگ اور ریاستی اداروں پر سخت تنقید

📷 Bilawal Alleges Rigging in AJK Polls, Slams PML-N and State Institutions(instant Image)

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میرپور اور کوٹلی کے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ میرپور اور کوٹلی کے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا مسلم لیگ (ن) کا مفاد۔

مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا جائے اور نتائج میں مداخلت کی جائے تو ایسی صورتحال کو جمہوریت نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ میرپور کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے پیپلز پارٹی کو اکثریت دلائی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست کا ہر فیصلہ مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان، کشمیر اور وہاں کے عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔

“ریاست قومی مفاد کو ترجیح دے، کسی جماعت کے مفاد کو نہیں”

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ریاستی اداروں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کے لیے قومی مفاد مقدم ہے یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کا مفاد۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی مفاد میں ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے، لیکن کسی سیاسی جماعت کے مفاد کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ “آنکھیں کھولیں، ن لیگ کے مفاد کے نام پر پاکستان کا جو حال کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے، اب کشمیر کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا جا رہا ہے۔”

“آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر جیسا ماحول نہ بنایا جائے”

بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کو ہرگز مقبوضہ کشمیر جیسا نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت چاہتی ہے کہ آزاد کشمیر کے علاقے بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح دکھائی دیں۔

انہوں نے انٹرنیٹ بند کیے جانے پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے آزاد کشمیر کا ماحول مقبوضہ کشمیر جیسا محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتیں سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہی ہیں، اس لیے ایسے اقدامات سے حقیقت کو نہیں چھپایا جا سکتا۔

“مرحلہ وار انتخابات دھاندلی کے لیے کرائے گئے”

چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ انتخابات مرحلہ وار اس لیے کرائے گئے تاکہ دھاندلی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی عناصر گزشتہ انتخابات میں بھی اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، تاہم اب عوام اپنے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملوں کے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک یا دو مقامات پر ایسا ہوتا تو اسے اتفاق سمجھا جا سکتا تھا، لیکن درجنوں پولنگ اسٹیشنز پر حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ معمول کا نہیں تھا۔

بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیسے ممکن ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

“کارکن کے قتل کے باوجود جدوجہد جاری رہے گی”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کو قتل کیا گیا، تاہم اس کے باوجود پارٹی کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ “میں اپنے کارکنوں کو انصاف دلائے بغیر خاموش نہیں بیٹھوں گا، آپ نے ہمارے کارکن کو مارا، لیکن اس کے باوجود ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہم اپنے لوگوں کا حق لے کر رہیں گے۔”

راجہ پرویز اشرف نے بھی دھاندلی کے الزامات عائد کر دیے

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر نتائج میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے ٹھپے لگائے، جہاں 25 فیصد سے زیادہ ٹرن آؤٹ نہیں تھا وہاں 90 فیصد ووٹنگ کیسے ہو گئی؟”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہو گیا تو اس کا نقصان پوری جمہوریت کو ہوگا۔ ان کے مطابق اس قسم کی بے ضابطگیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا ریاست کے مفاد میں نہیں ہیں بلکہ یہ جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق سامنے آنے والے تمام الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کے ووٹ کے تقدس کو یقینی بنایا جا سکے اور جمہوری عمل پر اعتماد بحال رہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories