حکومت طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا نے جنتر منتر پر جاری طلبہ کے پرامن احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک پریس بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ اور نوجوان جنتر منتر پر ایک جائز اور آئینی مطالبے کے ساتھ پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نیٹ اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے مسلسل پیپر لیک ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ یہ ایک مکمل طور پر جائز، جمہوری اور عوامی مطالبہ تھا، مگر حکومت نے نہ صرف اسے نظر انداز کیا بلکہ احتجاج کرنے والے طلبہ سے مذاکرات کی بھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد جب پارلیمنٹ مارچ کے لیے ہزاروں طلبہ، نوجوان اور عوام جنتر منتر پر جمع ہوئے تو انتظامیہ نے مذاکرات کے بہانے احتجاج کی قیادت کرنے والے دو اہم ذمہ داران کو روک لیا۔ اس کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں نے نہتے مظاہرین پر اس شدت سے حملہ کیا گویا وہ کسی دشمن فوج کا سامنا کر رہے ہوں۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق احتجاج کو بدنام کرنے کی غرض سے مبینہ طور پر پتھروں سے لدے ٹرک اور ٹوٹی ہوئی گاڑیاں بھی موقع پر لائی گئیں تاکہ مظاہرین پر تشدد اور پتھراؤ کا الزام عائد کیا جا سکے، مگر جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور بعد ازاں بے رحمانہ لاٹھی چارج کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے اس بے جا تشدد میں متعدد طلبہ شدید زخمی ہوئے، کئی کے سر پھٹ گئے، ہاتھ اور بازو ٹوٹ گئے، متعدد بے ہوش ہو گئے، جبکہ طالبات کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ملک کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ ایسا غیر انسانی اور ظالمانہ برتاؤ کیا گیا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ یہ نوجوان کسی دشمن ملک کے سپاہی نہیں بلکہ ہندوستان کے باصلاحیت طلبہ ہیں، جنہیں اپنے مستقبل اور ملک کے تعلیمی نظام کی شفافیت کی فکر ہے۔ ان کے ساتھ اس قسم کا رویہ کسی بھی جمہوری اور جوابدہ حکومت کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ متعدد ممتاز شخصیات، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنما احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچتے رہے، مگر حکومت نے نہ ان کے مطالبات پر توجہ دی اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی فوری طور پر بند کی جائے، زخمی طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے، احتجاج کرنے والوں سے سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، اور امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف، دیانت دار اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل لاٹھی، آنسو گیس اور طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، جمہوری اقدار اور آئینی طریقۂ کار میں مضمر ہے۔ ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے، نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کیا جائے اور عدل و انصاف پر مبنی نظام کو فروغ دیا جائے۔
حکومت طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے جنتر منتر کے قریب احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری
آئینی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے سخت منافی ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کے بجائے انھیں پولیس کی جارحانہ کارروائی کانشانہ بنایا گیا۔ ایک جمہوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی آواز کا جواب ہمدردی اور مذاکرات سے دے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرکے، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور اجتماعی گرفتاریوں کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور عام شہریوں پر طاقت کا استعمال ایک نہایت افسوسناک قدم ہے جو جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے پروفیسر انجینیئر سلیم نے کہا کہ احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ شفافیت، انصاف اور جوابدہی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔ یہ بات بھی حو صلہ افزا ہے کہ نوجوان سماج سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے جمہوری طریقے سے عوامی مسائل میں اپنا سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کو ہر حال میں پُرامن بنائے رکھیں، ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور نظم و ضبط اور عدم تشدد کے اعلیٰ ترین اصولوں کی پابندی کریں۔ کیونکہ پُرامن اور اصولی تحریکیں زیادہ اخلاقی قوت اور عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے ۔
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انصاف ایک سماجی مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند طلبہ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی اس جدو جہد میں ان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کو بدعنوانیوں سے پاک کرکے ایک بہتر اور قابلِ اعتماد نظام کی تعمیر ہے۔ ہم ارکانِ پارلیمنٹ، اپوزیشن جماعتوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طلبہ کے جائز مطالبات اور امنگوں کی بھرپور حمایت کریں اور مل کر ایسا تعلیمی نظام کو تشکیل دیں جو انصاف، دیانت داری اور مساوی مواقع کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل اس اعتماد پر منحصر ہے جو نوجوان اپنے اداروں پر رکھتے ہیں اور یہ اعتماد صرف انصاف، جوابدہی اور بامعنی اصلاحات کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

