حکومتِ کینیڈا نے ملک بھر میں سماجی، معاشی اور تحقیقی شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے 289 ملین کینیڈین ڈالر سے زائد کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے
اوٹاوا: حکومتِ کینیڈا نے ملک بھر میں سماجی، معاشی اور تحقیقی شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے 289 ملین کینیڈین ڈالر سے زائد کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس فنڈنگ کے تحت 1,788 تحقیقی منصوبوں اور شراکت داریوں کی مالی معاونت کی جائے گی، جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلی، معاشی بحالی، سماجی انصاف، نئی ٹیکنالوجیز کے سماجی اثرات اور دیگر اہم قومی و عالمی مسائل پر تحقیق کو فروغ دینا ہے۔
اس اعلان کا مقصد سماجی علوم اور انسانی علوم کے شعبوں میں تحقیق کو مضبوط بنانا اور ایسے عملی حل تلاش کرنا ہے جو کینیڈا کے عوام اور مختلف کمیونٹیز کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔
پارلیمانی سیکریٹری نے فنڈنگ کا اعلان کیا
یہ اعلان البرٹا کے شہر ایڈمنٹن میں وزیرِ صنعت میلانی جولی کی جانب سے ان کے پارلیمانی سیکریٹری کریم بردیسی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کینیڈا تحقیق، جدت اور مختلف اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
حکام کے مطابق یہ تمام فنڈنگ سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز ریسرچ کونسل آف کینیڈا (SSHRC) کے چار مختلف تحقیقی پروگراموں کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔
کن شعبوں پر تحقیق کی جائے گی؟
حکومت کے مطابق مالی معاونت حاصل کرنے والے منصوبوں میں مختلف اہم موضوعات شامل ہیں، جن میں:
- موسمیاتی تبدیلی اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کے طریقے
- معاشی بحالی اور پائیدار ترقی
- سماجی انصاف اور مساوات
- مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے سماجی اثرات
- عوامی پالیسی سازی
- کمیونٹی ڈویلپمنٹ
- تعلیم، ثقافت اور انسانی رویوں سے متعلق تحقیق
ان منصوبوں کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج مستقبل میں حکومتی پالیسیوں، معاشی منصوبہ بندی اور سماجی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔
مختلف پروگراموں کے لیے الگ الگ فنڈنگ
حکومت نے فنڈنگ کو چار مختلف پروگراموں کے تحت تقسیم کیا ہے۔
انسائٹ گرانٹس
اس پروگرام کے تحت 808 تحقیقی منصوبوں کے لیے 162.7 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
یہ گرانٹس نئے اور تجربہ کار محققین کو ایسے تحقیقی منصوبے مکمل کرنے میں مدد فراہم کریں گی جو انسانی معاشرے، ثقافت اور سماجی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں معاون ہوں۔
انسائٹ ڈیولپمنٹ گرانٹس
اس پروگرام کے لیے 64.4 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے 859 تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت کی جائے گی۔
اس کا مقصد تحقیق کے ابتدائی مراحل میں موجود منصوبوں کو فروغ دینا اور نئی تحقیقی سوچ، نظریات اور طریقۂ کار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پارٹنرشپ گرانٹس
دوسرے مرحلے کے 17 بڑے تحقیقی شراکتی منصوبوں کے لیے 42.3 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
ان منصوبوں میں جامعات، سرکاری ادارے، نجی شعبہ اور غیر منافع بخش تنظیمیں مشترکہ طور پر تحقیق کریں گی تاکہ مختلف قومی مسائل کے حل تلاش کیے جا سکیں۔
پارٹنرشپ ڈیولپمنٹ گرانٹس
اس پروگرام کے تحت 104 منصوبوں کے لیے 20.2 ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
اس کا مقصد نئی تحقیقی شراکت داریوں کو فروغ دینا، بہترین تحقیقی ماڈلز تیار کرنا اور ایسے منصوبے سامنے لانا ہے جنہیں بعد میں قومی یا بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دی جا سکے۔
تحقیق کو عوامی فائدے سے جوڑا جائے گا
حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے ذریعے صرف علمی تحقیق ہی نہیں ہوگی بلکہ تحقیق کے نتائج کو عملی زندگی میں بھی استعمال کیا جائے گا۔
اس سرمایہ کاری کا مقصد جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عوام، صنعت، کمیونٹیز اور حکومتی اداروں کی ضروریات کے ساتھ مربوط کرنا ہے تاکہ تحقیق براہِ راست عوامی فلاح اور معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکے۔
وزیرِ صنعت میلانی جولی کا بیان
وزیرِ صنعت میلانی جولی نے اپنے بیان میں کہا کہ مضبوط معیشت کے لیے صرف سرمایہ کاری کافی نہیں بلکہ نئی سوچ، تحقیق اور باصلاحیت افراد بھی انتہائی ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ سرمایہ کاری صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، بہتر فیصلے کرنے اور مستقبل کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے گی۔
ان کے مطابق تحقیق سے حاصل ہونے والا علم نہ صرف کاروباری شعبے بلکہ سرکاری اداروں کو بھی مؤثر پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرے گا۔
کریم بردیسی کا مؤقف
پارلیمانی سیکریٹری کریم بردیسی نے کہا کہ سماجی اور انسانی علوم کی تحقیق کسی بھی مضبوط، منصفانہ اور جدید معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی کر رہی ہے جو نہ صرف نئے خیالات کو فروغ دیں گے بلکہ مختلف اداروں اور کمیونٹیز کے درمیان تعاون بھی بڑھائیں گے۔
ان کے مطابق یہ منصوبے مستقبل میں ایک زیادہ مساوی، مضبوط اور جدید کینیڈا کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
ایس ایس ایچ آر سی کے عبوری صدر کا ردعمل
سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز ریسرچ کونسل کے عبوری صدر نورماند لابری نے کہا کہ موجودہ دور کے قومی اور بین الاقوامی چیلنجز کو سمجھنے اور ان کا مؤثر حل تلاش کرنے کے لیے سماجی علوم اور انسانی علوم کی تحقیق ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مالی معاونت محققین کو نئی راہیں تلاش کرنے، بہتر شراکت داری قائم کرنے اور ایسی تحقیق کرنے کا موقع فراہم کرے گی جو مستقبل میں ایک زیادہ خوشحال، جامع اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگی۔
تحقیق کے ذریعے مستقبل کی منصوبہ بندی
ماہرین کے مطابق اس سرمایہ کاری سے نہ صرف جامعات اور تحقیقی اداروں کی استعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومت کو بھی عوامی مسائل کے حل، معاشی منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سماجی انصاف جیسے شعبوں میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے قابلِ اعتماد تحقیقی شواہد میسر آئیں گے۔
حکومتِ کینیڈا کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بھی تحقیق، اختراع اور تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ ملک کو مستقبل کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

