امریکی وفاقی عدالت کے ایک جج نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دونوں بھائی اگلی سماعت تک زیرِ حراست رہیں گے۔ برطانیہ میں ان دونوں پر عصمت دری اور جنسی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات عائد ہیں
سوشل میڈیا شخصیات اینڈریو ٹیٹ اور ٹرسٹن ٹیٹ برطانیہ حوالگی کے مقدمے کے دوران مزید کم از کم دو ہفتے جیل میں رہیں گے۔ امریکی وفاقی عدالت کے ایک جج نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دونوں بھائی اگلی سماعت تک زیرِ حراست رہیں گے۔ برطانیہ میں ان دونوں پر عصمت دری اور جنسی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات عائد ہیں۔
امریکی مجسٹریٹ جج لارن لوئس نے 13 اگست کو حراست سے متعلق سماعت مقرر کی ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ حوالگی کے ممکنہ کئی ماہ طویل عمل کے دوران اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو جیل میں رکھا جائے یا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔
پیر کے روز ہونے والی سماعت میں دونوں بھائی عدالت میں موجود نہیں تھے اور انہیں وہاں حاضر ہونے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ 18 جولائی کو گرفتاری کے دو روز بعد مختصر عدالتی پیشی کے بعد سے جیل میں ہیں۔
اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ سوشل میڈیا پر دولت، مردانہ بالادستی اور خواتین مخالف خیالات کی تشہیر کے باعث دنیا کی متنازع ترین انٹرنیٹ شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ دونوں سابق پیشہ ور کک باکسر ہیں اور ان کے پاس امریکی اور برطانوی دونوں شہریتیں ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں پیروکار ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کھلے حامی بھی رہے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ دونوں بھائیوں کو صدر کی جانب سے کسی قسم کی مدد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے گزشتہ ہفتے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ حکومت حوالگی کے عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔
ٹیٹ برادرز کے وکیل جوزف میک برائیڈ نے گزشتہ ہفتے کی سماعت کے بعد کہا تھا کہ ان کے مؤکلوں کو امریکہ میں ہی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات درست نہیں۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکلوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں ایسے جرائم کے لیے برطانیہ کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے جو انہوں نے نہیں کیے۔
میک برائیڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حوالگی کی کوشش سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کو سابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔
برطانوی استغاثہ کے مطابق نئے الزامات کا تعلق چار نئے شکایت کنندگان سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ الزامات جنوب مشرقی انگلینڈ کی بیڈفورڈ شائر پولیس سے موصول ہونے والے شواہد کے بعد سامنے آئے۔ ان الزامات کا تعلق 2010 سے 2017 کے درمیان کے واقعات سے ہے، جن میں عصمت دری، حملہ، انسانی اسمگلنگ اور بچوں کی نامناسب تصاویر اور انتہائی فحش مواد سے متعلق جرائم شامل ہیں۔
ٹیٹ برادرز کے وکیل نے کہا ہے کہ تازہ الزامات لگانے والی خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
اس سے قبل بھی اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ پر برطانیہ میں تین دیگر افراد سے متعلق عصمت دری، جسمانی نقصان پہنچانے، انسانی اسمگلنگ اور مالی فائدے کے لیے جسم فروشی پر مجبور کرنے جیسے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ یہ مبینہ واقعات 2012 سے 2015 کے دوران پیش آنے کا الزام ہے۔
ٹیٹ برادرز کے خلاف یہ مقدمہ ایک طویل بین الاقوامی قانونی کارروائی کا حصہ ہے، جس کا تعلق امریکہ، برطانیہ اور رومانیہ سے ہے۔ دونوں بھائی مسلسل تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ 2016 میں رومانیہ منتقل ہوئے تھے، جہاں انہیں 2022 میں گرفتار کیا گیا۔ رومانیہ کے حکام نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ خواتین کو جنسی استحصال کے لیے پھانسنے والے گروہوں میں شامل تھے۔ دونوں بھائیوں نے ان الزامات کو مسترد کیا، جبکہ رومانیہ میں مقدمہ قانونی اور طریقہ کار سے متعلق مسائل کے باعث ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکا۔
گزشتہ سال ان پر عائد سفری پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں، جس کے بعد وہ فلوریڈا منتقل ہو گئے تھے۔
39 سالہ اینڈریو ٹیٹ ایک دہائی قبل برطانیہ کے ریئلٹی ٹی وی پروگرام بگ برادر میں شرکت کے بعد مشہور ہوئے تھے۔ بعد میں ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں پروگرام سے نکال دیا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر ایک خاتون پر حملہ دکھایا گیا تھا۔
اینڈریو ٹیٹ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک کروڑ سے زائد فالوورز ہیں، تاہم نفرت انگیز مواد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر انہیں یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام سمیت کئی پلیٹ فارمز سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے ماضی میں خواتین اور جنسی تشدد سے متعلق ایسے بیانات دیے جن پر شدید تنقید ہوئی۔ ان کے بعض تبصروں کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین نے خواتین مخالف قرار دیا۔
ٹیٹ برادرز نے ہمیشہ بدسلوکی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے متنازع بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا یا وہ محض مذاق کے طور پر کیے گئے تھے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

