کینیڈا

زیادہ تر کینیڈین شہری امریکی محصولات کے خلاف جوابی کارروائی کے حامی: رائے شماری

زیادہ تر کینیڈین شہری امریکی محصولات کے خلاف جوابی کارروائی کے حامی: رائے شماری

کینیڈا میں حالیہ رائے شماری کے مطابق ملک کی بڑی تعداد اس بات کی حامی ہے کہ حکومت امریکہ کی جانب سے عائد کیے جانے والے محصولات کے خلاف سخت ردعمل اختیار کرے۔ اس رائے شماری سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عوامی سطح پر امریکہ کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف بے چینی اور ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب امریکہ نے کینیڈین مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔یہ رائے شماری ایک معروف تحقیقی ادارے کی جانب سے جولائی کے آخری ہفتے میں کی گئی، جس میں ملک بھر سے ایک ہزار سات سو نوّے بالغ افراد نے شرکت کی۔ نتائج کے مطابق تقریباً باسٹھ فیصد افراد نے کسی نہ کسی صورت میں جوابی محصولات کی حمایت کی۔ ان میں چونتیس فیصد کا کہنا تھا کہ حکومت کو امریکہ کے برابر محصولات عائد کرنے چاہئیں، جبکہ اٹھائیس فیصد افراد نے محدود پیمانے پر جوابی اقدامات کی حمایت کی۔دوسری جانب تقریباً انیس فیصد افراد نے اس خیال سے اختلاف کیا اور ان کا ماننا ہے کہ حکومت کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تجارتی معاہدہ طے کرنا چاہیے۔ بہت کم تعداد، یعنی تقریباً سات فیصد افراد نے یہ رائے دی کہ حکومت کو امریکہ کے مطالبات تسلیم کر لینے چاہئیں تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے، جبکہ بارہ فیصد افراد اس معاملے پر غیر یقینی کا شکار نظر آئے۔یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب کینیڈا کو اگلے مہینے امریکہ کی جانب سے پچاس فیصد تک کے وسیع محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو مختلف کینیڈین مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ محصولات نافذ ہو گئے تو اس سے نہ صرف تجارت متاثر ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔رائے شماری کے مطابق وزیر اعظم مارک کارنی کی امریکہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کرنے کی صلاحیت پر عوام کا اعتماد بھی کم ہوا ہے۔ صرف تینتالیس فیصد افراد کا ماننا ہے کہ وہ کینیڈا کے لیے بہتر معاہدہ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ اپریل میں یہ شرح اکاون فیصد تھی۔ تقریباً پچاس فیصد افراد نے حکومت کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ ان میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ امریکی قیادت کے غیر متوقع فیصلوں کی وجہ سے مذاکرات مشکل ہو گئے ہیں۔مزید برآں، دودھ کی صنعت سے متعلق پالیسیوں پر بھی عوامی رائے منقسم نظر آئی۔ بیالیس فیصد افراد چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی موجودہ پالیسیوں پر قائم رہے، جبکہ چوالیس فیصد کا ماننا ہے کہ ان پالیسیوں کو مذاکرات میں بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اکسٹھ فیصد افراد اس بات کے خلاف ہیں کہ امریکی دودھ کی مصنوعات کو مزید رسائی دی جائے۔اسی طرح تقریباً اڑتالیس فیصد افراد نے اس بات کی مخالفت کی کہ امریکی شراب کو دوبارہ کینیڈین بازاروں میں فروخت کی اجازت دی جائے۔ یہ اقدامات بھی امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کا ایک اہم سبب بنے ہوئے ہیں۔گزشتہ ایک سال کے دوران کینیڈا اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں تناؤ دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے اور انہوں نے کینیڈا کی معیشت اور خودمختاری سے متعلق سخت بیانات دیے۔ ایک سابقہ رائے شماری کے مطابق بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں نے امریکہ کا سفر کرنے سے گریز کرنے اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کے اثرات عوامی سوچ پر بھی گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ اب حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرے جو نہ صرف ملکی مفادات کا تحفظ کرے بلکہ بین الاقوامی تعلقات کو بھی متوازن رکھے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کینیڈا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ عوام کی بڑی تعداد جوابی اقدامات کی حمایت کر رہی ہے، لیکن ساتھ ہی مذاکرات کی ضرورت بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کے فیصلے نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عالمی سطح پر کینیڈا کے کردار کو بھی متعین کریں گے۔اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کو مزید مختصر یا صرف سرخیوں کی صورت میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories