کینیڈا کی حکومت کی جانب سے دو ہزار چھبیس وہیل چیئر باسکٹ بال عالمی مقابلوں کی میزبانی کی حمایت
کینیڈا کی وفاقی حکومت نے کھیلوں کے فروغ اور ایک جامع معاشرے کے قیام کے عزم کو دہراتے ہوئے دو ہزار چھبیس میں منعقد ہونے والے وہیل چیئر باسکٹ بال کے عالمی مقابلوں کے لیے بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف کھیلوں کے میدان میں کینیڈا کی مضبوط روایت کو آگے بڑھانے کی علامت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ حکومت ہر فرد کو کھیلوں میں شرکت کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں بلکہ قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کا ایک مضبوط ذریعہ ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مقامی کھیل تنظیموں کے ذریعے ایسے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جو کم خرچ یا بغیر خرچ کے ہوں، تاکہ ہر طبقے کے افراد، خصوصاً معذور افراد، کھیلوں میں فعال طور پر حصہ لے سکیں۔اسی سلسلے میں کھیلوں کے امور کے ذمہ دار اعلیٰ عہدیدار نے مختلف کھیل اداروں کے تعاون سے ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر پیرا اولمپک تمغہ یافتہ کھلاڑی اور مقامی بچوں کے ساتھ وہیل چیئر باسکٹ بال کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا، جس کا مقصد نوجوانوں میں اس کھیل کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور انہیں اس میں حصہ لینے کی ترغیب دینا تھا۔اس موقع پر وہیل چیئر باسکٹ بال کے قومی ادارے کے لیے پچیس لاکھ ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا، تاکہ دو ہزار چھبیس کے عالمی مقابلوں کا کامیاب انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔ یہ مقابلے نو ستمبر سے انیس ستمبر دو ہزار چھبیس تک دارالحکومت اوٹاوا میں منعقد ہوں گے۔اس عالمی سطح کے مقابلے میں انیس ممالک کے تین سو چھتیس کھلاڑی شرکت کریں گے۔ یہ ایونٹ نہ صرف کینیڈا کے کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ بیرون ملک سے آنے والے شائقین کی وجہ سے سیاحت اور معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ ماہرین کے مطابق ایسے مقابلے کسی بھی ملک کی عالمی سطح پر ساکھ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کینیڈا پہلے ہی کھیلوں کے انعقاد کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور یہ مقابلہ اس حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا۔ حکومت نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت ایک ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد بڑے عالمی مقابلوں کی میزبانی، عوامی شرکت میں اضافہ، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی، کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانا اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنا ہے۔حکام کے مطابق کھیل قوموں کو جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دیگر بڑے عالمی مقابلے بھی اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں، جو مختلف کھیلوں کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں اور نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہیل چیئر باسکٹ بال جیسے کھیل معذور افراد میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بننے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات یہ پیغام دیتے ہیں کہ کھیل ہر ایک کے لیے ہیں اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کینیڈا کی حکومت کا یہ قدم نہ صرف کھیلوں کے فروغ بلکہ ایک منصفانہ اور برابر مواقع فراہم کرنے والے معاشرے کی تعمیر کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ دو ہزار چھبیس کے یہ عالمی مقابلے یقیناً کینیڈا کی عالمی شناخت کو مزید مضبوط کریں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کریں گے۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کو مزید مختصر، سرخیوں یا خبروں کے بلیٹن کی شکل میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

