کاروبار

ٹرمپ کے ٹیرف کی دھمکی کا اثر، کینیڈین کاروبار پہلے ہی متاثر ہونے لگے: تجارتی وکیل

📷 Trump Tariff Threat Already Hurting Canadian Businesses(Instant image)

بین الاقوامی تجارتی وکیل ولیم پیلرین کا کہنا ہے کہ کئی کینیڈین مینوفیکچررز امریکی صارفین کی جانب سے آرڈرز منسوخ کیے جانے کے باعث پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں

امریکی آرڈرز منسوخ، 50 فیصد مجوزہ ٹیرف سے صنعتوں کو بڑا نقصان پہنچنے کا خدشہ

اوٹاوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد مجوزہ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے اثرات اس کے نفاذ سے پہلے ہی سامنے آنے لگے ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی وکیل ولیم پیلرین کا کہنا ہے کہ کئی کینیڈین مینوفیکچررز امریکی صارفین کی جانب سے آرڈرز منسوخ کیے جانے کے باعث پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارت کے لیے اہم گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج پیر کے روز کھولے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی آرڈرز میں کمی شروع

ولیم پیلرین نے گلوبل نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے متعدد مؤکلوں نے بتایا ہے کہ اگلے ماہ 19 اگست سے مجوزہ 50 فیصد ٹیرف نافذ ہونے کے خدشے کے باعث امریکی خریدار پہلے ہی بڑے پیمانے پر آرڈرز واپس لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہم ایسے بہت سے مؤکلوں سے بات کر رہے ہیں جن کے امریکی گاہک اس مجوزہ ٹیرف کی وجہ سے اپنے آرڈرز منسوخ کر رہے ہیں۔”

50 فیصد ٹیرف سے مسابقت متاثر ہوگی

پیلرین کے مطابق اگر 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو جاتا ہے تو بہت سی کینیڈین مصنوعات امریکی مارکیٹ میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکیں گی، خاص طور پر فرنیچر اور الیکٹرانکس کے شعبے اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اتنا زیادہ ٹیرف کینیڈین کاروبار کو امریکہ میں غیر مسابقتی بنا دے گا، جس سے برآمدات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

غیر یقینی صورتحال سے ملازمتیں بھی متاثر

انہوں نے کہا کہ صرف ٹیرف کی دھمکی ہی کاروباری ماحول پر منفی اثر ڈال رہی ہے، کیونکہ امریکی خریدار ممکنہ اضافی لاگت کے خدشے کے باعث محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

پیلرین کے مطابق اسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بعض کینیڈین مینوفیکچررز نے ملازمین کو فارغ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

فرنیچر اور لکڑی کی صنعت کو بڑا خطرہ

تجارتی وکیل نے کہا کہ فرنیچر اور لکڑی سے تیار ہونے والی مصنوعات بنانے والی صنعتیں اس مجوزہ ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ چھوٹے شہروں میں قائم بہت سے کارخانے اپنی زیادہ تر مصنوعات امریکہ برآمد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کئی کارخانوں میں دو سے تین سو افراد ملازمت کرتے ہیں اور اگر امریکی آرڈرز ختم ہوئے تو بعض چھوٹے شہروں کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بعض مؤکل اس صورتحال کو “تباہ کن” قرار دے رہے ہیں۔

تجارتی کشیدگی میں اضافہ

یہ نئی ٹیرف دھمکی کینیڈا اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کا حصہ ہے، جو کینیڈا کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے امریکی ٹیرف کے جواب میں کیے گئے اقدامات کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد اضافی ٹیرف کی دھمکی دی تھی، جبکہ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (CUSMA) سے باہر آنے والی اشیا پر مزید 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

مذاکرات کی ضرورت پر زور

ولیم پیلرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی فوری ترجیح امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنا ہونی چاہیے تاکہ مجوزہ ٹیرف کے نفاذ سے پہلے کسی حل تک پہنچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کے خلاف قوانین کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مجوزہ قانون سازی پر بھی پیش رفت جاری رکھنی چاہیے۔

گورڈی ہاؤ برج کی افتتاحی تقریب

یہ تجارتی غیر یقینی صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج پیر کے روز باضابطہ طور پر کھول دیا جائے گا، جو کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے لیے ایک اہم نیا راستہ ثابت ہوگا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ ٹیرف نافذ ہو گیا تو سرحد پار تجارت کو فروغ دینے کی یہ اہم پیش رفت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories