دنیا

لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے، 31 افراد شہید، صورتحال شدید کشیدہ

📷 Israeli airstrikes on southern Lebanon kill 31, situation tense

لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملے، 31 افراد شہید، صورتحال شدید کشیدہ

لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں شدید تباہی اور خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملے اچانک شدت اختیار کر گئے ہیں اور مختلف مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے لبنان کے مختلف جنوبی علاقوں اور وادی بیقاع میں فضائی کارروائیاں کیں، جن کے دوران رہائشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے اور بعض حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا اور کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم صورتحال کی سنگینی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ حملے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu نے پیر کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔ ان کے مطابق اب تک کارروائیوں کے دوران 600 سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے، جنہیں انہوں نے “دہشت گرد” قرار دیا۔

نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور لبنان کے مختلف حصوں میں فضائی حملوں کی نئی لہر شروع ہوگئی۔ منگل کے روز اسرائیلی افواج نے خاص طور پر لبنان کی وادی بیقاع کو نشانہ بنایا، جہاں دھماکوں کے بعد آسمان پر زرد رنگ کے دھوئیں کے بڑے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جو میلوں دور تک نظر آئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 180 فضائی حملے کیے گئے، جن میں عام شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے اور تین خواتین بھی شامل ہیں، جس سے انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

لبنانی حکام نے ان حملوں کو شدید ترین کشیدگی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ پورے علاقے کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری علاقوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق اسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد لائی جا رہی ہے جبکہ طبی سہولیات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

خطے میں جاری اس کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے تحمل اور مذاکرات کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور مزید حملوں کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع مزید وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے خطے پر سنگین سیاسی اور انسانی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت عالمی برادری کی نظریں اس صورتحال پر مرکوز ہیں، جبکہ لبنان میں خوف اور بے یقینی کا ماحول برقرار ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories