دنیا

ہندوستان میں خواتین کی ڈیجیٹل رسائی میں تاریخی اضافہ، انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً دوگنی

📷 Indian, Real People, adult, young woman,

ڈیجیٹل انقلاب میں خواتین کی بڑھتی شمولیت، انٹرنیٹ اور بینکنگ سہولیات تک رسائی میں نمایاں اضافہ

نئی دہلی: ہندوستان میں خواتین کی ڈیجیٹل اور مالی شمولیت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قومی خاندانی صحت سروے (NFHS-6) کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہی ہیں بلکہ بینکنگ، مواصلات اور صحت سے متعلق سہولیات تک ان کی رسائی بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند برس قبل جہاں خواتین کی ایک محدود تعداد ہی انٹرنیٹ استعمال کرتی تھی، وہیں اب بڑی تعداد میں خواتین روزمرہ زندگی، تعلیم، روزگار، کاروبار اور معلومات کے حصول کے لیے ڈیجیٹل ذرائع سے استفادہ کر رہی ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2019-21 کے دوران 33.3 فیصد خواتین انٹرنیٹ استعمال کرتی تھیں، جبکہ 2023-24 میں یہ شرح بڑھ کر 64.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے اسمارٹ فونز کی بڑھتی دستیابی، سستے انٹرنیٹ پیکجز، سرکاری ڈیجیٹل مہمات اور آن لائن خدمات کے فروغ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافے نے خواتین کو تعلیم، آن لائن تربیت، سرکاری اسکیموں اور روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

سروے میں خواتین کی مالی خودمختاری کے حوالے سے بھی مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بینک یا بچت کھاتوں کی مالک خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ 2019-21 میں 78.6 فیصد خواتین کے پاس بینک یا بچت کھاتہ موجود تھا، جبکہ 2023-24 میں یہ شرح بڑھ کر 89 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق بینکنگ خدمات تک رسائی میں یہ اضافہ خواتین کی معاشی بااختیاری اور مالی شمولیت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اسی طرح ذاتی موبائل فون رکھنے والی خواتین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق چند برس قبل 53.9 فیصد خواتین کے پاس اپنا موبائل فون تھا، جبکہ اب یہ شرح 63.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موبائل فون خواتین کو نہ صرف رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، تعلیم اور معلومات تک رسائی کے نئے مواقع بھی مہیا کرتا ہے۔

خواتین کی صحت کے شعبے میں بھی حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ سروے کے مطابق 15 سے 24 سال عمر کی لڑکیوں اور نوجوان خواتین میں ماہواری کے دوران صفائی کے محفوظ طریقوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالے سے شعور اور سہولیات کی دستیابی میں بہتری آئی ہے، جس کا مثبت اثر خواتین کی صحت پر پڑ رہا ہے۔

مرکزی وزارتِ صحت کے مطابق حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں، بالخصوص ماہواری صفائی پروگرام اور کم قیمت سینیٹری مصنوعات کی فراہمی نے خواتین میں صحت سے متعلق آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو بہتر اور محفوظ صحت کی سہولیات میسر آ رہی ہیں۔

وزارتِ صحت نے سروے کے نتائج کو ملک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور ڈیجیٹل ترقی کا مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زچہ و بچہ کی صحت، غذائیت، تعلیم، مالی شمولیت اور بنیادی سہولیات تک رسائی جیسے شعبوں میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

تاہم رپورٹ میں بعض چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر متعدی بیماریوں میں اضافہ، غیر صحت مند طرزِ زندگی، غذائی قلت اور موٹاپے جیسے مسائل اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال، متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی آگاہی مہمات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

سروے کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں خواتین تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن رہی ہیں اور معاشی خودمختاری کی جانب مضبوط قدم بڑھا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے مواقع مزید وسیع ہوں گے، جس سے ملک کے مجموعی ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories