کینیڈا میں بھارتی شہریوں کو نشانہ بنانے والی فون فراڈ اسکیموں میں اضافہ، بھارتی قونصل خانے کی وارننگ
اوٹاوا/ٹورنٹو ۔ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں کو نشانہ بنانے والی دھوکہ دہی کی وارداتوں میں اضافے کے بعد کینیڈا میں بھارتی سفارت خانے اور ٹورنٹو میں قائم بھارتی قونصل خانے نے اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے عوام کو جعلی فون کالز، پیغامات اور آن لائن فراڈ سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔بھارتی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران بڑی تعداد میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نامعلوم افراد خود کو بھارتی قونصل خانے یا سفارتی عملے کا رکن ظاہر کرکے شہریوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ یہ افراد مختلف بہانوں سے لوگوں کی ذاتی معلومات، پاسپورٹ کی تفصیلات، بینکنگ معلومات اور بعض صورتوں میں رقم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ٹورنٹو میں قائم بھارت کے قونصل جنرل کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ متعدد بھارتی شہریوں نے ایسی کالز موصول ہونے کی شکایات درج کرائی ہیں جن میں کال کرنے والے خود کو قونصل خانے کا افسر ظاہر کرتے ہیں۔ ان کالز میں شہریوں کو امیگریشن معاملات، ویزا درخواستوں، مستقل رہائشی حیثیت (پی آر)، ملازمت کے مواقع یا قانونی مسائل کے حوالے سے گمراہ کن معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔حکام کے مطابق فراڈ کرنے والے افراد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فون نمبرز کو اس انداز میں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ سرکاری اداروں یا قونصل خانے کے نمبرز معلوم ہوتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو “اسپوفنگ” کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے دھوکے باز شہریوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قونصل خانے نے واضح کیا ہے کہ بھارتی سفارتی مشنز کبھی بھی فون کال، ٹیکسٹ میسج یا ای میل کے ذریعے کسی فرد سے بینک اکاؤنٹ کی معلومات، کریڈٹ کارڈ تفصیلات یا فوری مالی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتے۔ اسی طرح کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی، ویزا منسوخی یا ملک بدری کی دھمکی دے کر رقم طلب کرنا مکمل طور پر فراڈ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض متاثرین کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے امیگریشن دستاویزات میں کوئی مسئلہ ہے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونے والی ہے۔ اس خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکے باز افراد فوری ادائیگی یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔بھارتی حکام نے کینیڈا میں مقیم تمام بھارتی شہریوں، طلبہ، ورک پرمٹ ہولڈرز اور مستقل رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ فون کال یا پیغام پر یقین نہ کریں اور کسی نامعلوم شخص کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں۔حکام نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو ایسی کال موصول ہو جس میں رقم یا حساس معلومات طلب کی جا رہی ہوں تو فوری طور پر کال منقطع کر دی جائے اور متعلقہ ادارے سے سرکاری ذرائع کے ذریعے رابطہ کرکے معلومات کی تصدیق کی جائے۔کینیڈا میں مالیاتی اور آن لائن فراڈ کے واقعات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر تارکین وطن، بین الاقوامی طلبہ اور نئے آنے والے افراد اکثر ایسے فراڈ کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ انہیں مقامی قوانین اور سرکاری طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔بھارتی قونصل خانے نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ کسی دھوکہ دہی کا شکار ہوں یا انہیں مشتبہ کال موصول ہو تو فوری طور پر اس کی اطلاع Canadian Anti-Fraud Centre اور مقامی پولیس کو دیں تاکہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر مسلسل نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں، اس لیے شہریوں کو ہر قسم کی غیر متوقع کال، ای میل یا پیغام کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ خصوصاً وہ پیغامات جن میں فوری کارروائی، انعام، ملازمت یا قانونی مسائل کے نام پر ذاتی معلومات یا رقم طلب کی جائے، ان کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔بھارتی سفارتی حکام نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ عوام صرف سرکاری ویب سائٹس، تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور قونصل خانے کے مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر اعتماد کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری رپورٹ کریں تاکہ مزید افراد کو فراڈ سے بچایا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

