کینیڈا میں گھریلو اثاثوں کی مجموعی مالیت میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں بہتری اور مالیاتی سرمایہ کاری کی قدر میں اضافہ شامل ہیں۔کینیڈا کے سرکاری ادارے شماریات کینیڈا (Statistics Canada) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک کینیڈین گھرانوں کی مجموعی خالص دولت (Net Worth) میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ رقم 18.6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔خالص دولت سے مراد کسی فرد یا گھرانے کے تمام اثاثوں کی مجموعی مالیت میں سے اس کے تمام قرضے اور واجبات منہا کرنے کے بعد باقی رہنے والی رقم ہے۔ادارے کے مطابق فی کس بنیاد پر کینیڈین گھرانوں کی اوسط خالص دولت 442,896 ڈالر سے بڑھ کر 448,433 ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ کینیڈا کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری کے آثار ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے تک جائیدادوں کی قیمتوں میں کمزوری اور سست روی کے بعد اب رہائشی املاک کی مالیت میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق غیر مالیاتی اثاثوں (Non-Financial Assets) کی مالیت میں پہلی سہ ماہی کے دوران 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے قبل مسلسل دو سہ ماہیوں میں ان اثاثوں کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ غیر مالیاتی اثاثوں میں رہائشی مکانات اور دیگر جائیدادیں شامل ہوتی ہیں۔آر بی سی (RBC) کی ماہر اقتصادیات ریچل بٹالیا نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ جائیدادوں کی قیمتوں میں استحکام نے گھریلو دولت میں مسلسل کمی کے رجحان کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کے مطابق ہاؤسنگ مارکیٹ میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم مارکیٹ کی موجودہ رفتار اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور مستقبل میں معاشی حالات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب مالیاتی اثاثوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شماریات کینیڈا کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اثاثوں کی مالیت 1.3 فیصد بڑھی۔اس عرصے کے دوران کینیڈین گھرانوں نے تقریباً 148 ارب ڈالر کے نئے مالیاتی اثاثے حاصل کیے۔ اس اضافے میں میوچل فنڈز، سرمایہ کاری فنڈز اور ملکی اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قدر میں اضافہ بنیادی عوامل رہے۔اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کی مقامی اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی مالیت میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ توانائی اور معدنیات کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں توانائی کی طلب اور قدرتی وسائل کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے کینیڈین کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں کو سہارا دیا، جس کا براہِ راست فائدہ سرمایہ کاروں اور عام گھرانوں کو پہنچا۔تاہم جہاں اثاثوں میں اضافہ ہوا، وہیں قرضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رہائشی رہن (Mortgage) اور دیگر غیر رہائشی قرضوں میں پہلی سہ ماہی کے دوران 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گھریلو دولت میں اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن بڑھتے ہوئے قرضے اور مالی دباؤ بدستور تشویش کا باعث ہیں۔اسی دوران آفس آف دی سپرنٹنڈنٹ آف بینکرپسی کے تازہ اعداد و شمار نے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران کینیڈا میں صارفین کی دیوالیہ پن یا مالی مشکلات سے متعلق درخواستوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔جنوری، فروری اور مارچ کے دوران مجموعی طور پر 37 ہزار 121 کینیڈین شہریوں نے دیوالیہ پن یا قرضوں سے نجات کے لیے قانونی درخواستیں دائر کیں۔کینیڈین ایسوسی ایشن آف انسولوینسی اینڈ ری اسٹرکچرنگ پروفیشنلز (CAIRP) کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ رواں سال اوسطاً ہر گھنٹے میں 17 کینیڈین شہری مالی مشکلات کے باعث قانونی تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 2009 کی پہلی سہ ماہی کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب عالمی مالیاتی بحران اور 2008 کی عظیم کساد بازاری کے اثرات کینیڈین معیشت پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے تھے۔ماہرین کے مطابق ایک جانب جائیدادوں اور سرمایہ کاری کی مالیت میں اضافہ خوش آئند ہے، لیکن دوسری جانب قرضوں اور دیوالیہ پن کے بڑھتے ہوئے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت سے کینیڈین خاندان اب بھی بلند اخراجات، مہنگائی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود، مہنگائی اور ہاؤسنگ مارکیٹ کی صورتحال اس بات کا تعین کرے گی کہ کینیڈین گھرانوں کی دولت میں یہ مثبت رجحان برقرار رہتا ہے یا نہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

