فیفا ورلڈ کپ 2026: کینیڈا کا قطر کے خلاف پہلی تاریخی فتح کے لیے عزم، گروپ بی میں سخت مقابلے کی صورتحال
وینکوور: فیفا مردوں کے ورلڈ کپ 2026 میں کینیڈا اپنی پہلی فتح حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اپنے دوسرے گروپ میچ میں قطر کے خلاف میدان میں اترنے جا رہا ہے۔ یہ مقابلہ نہ صرف دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہے بلکہ گروپ بی کی مجموعی صورتحال کے لیے بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جہاں تمام ٹیمیں ایک ایک پوائنٹ کے ساتھ موجود ہیں اور مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے۔
یہ میچ کینیڈا کے لیے ایک تاریخی موقع بھی ہے کیونکہ پہلی بار قومی ٹیم وینکوور کے مشہور بی سی پلیس اسٹیڈیم میں کھیل رہی ہے۔ یہ اس اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا ٹورنامنٹ کا دوسرا میچ ہوگا، جس کے باعث شائقین کی بڑی تعداد کی موجودگی متوقع ہے اور ماحول انتہائی پرجوش ہونے کی توقع ہے۔
کینیڈا نے اپنے پہلے میچ میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف 1-1 سے ڈرا کھیلا تھا، جس میں ٹیم نے بہتر آغاز کے باوجود میچ کو جیت میں تبدیل نہیں کیا۔ اس میچ میں کینیڈا کو ایک قیمتی پوائنٹ حاصل ہوا، تاہم کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیم کو اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح قطر نے بھی اپنے پہلے میچ میں سوئٹزرلینڈ کے خلاف سخت مقابلے کے بعد 1-1 سے برابری حاصل کی۔ اس طرح گروپ بی میں شامل چاروں ٹیموں کے پاس اس وقت ایک ایک پوائنٹ ہے، جس نے اس گروپ کو ورلڈ کپ کے سب سے زیادہ غیر یقینی اور مسابقتی گروپس میں شامل کر دیا ہے۔
گروپ بی کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہر میچ کا نتیجہ نہایت اہم ہے۔ اس گروپ میں براہ راست کوالیفائی کرنے کے لیے ٹیموں کو ٹاپ دو پوزیشنز میں جگہ بنانا ہوگی، جبکہ تیسرے نمبر کی ٹیم بھی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر آخری 32 ٹیموں میں جگہ بنا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ دیگر گروپس کے تیسرے نمبر کی ٹیموں میں بہترین آٹھ میں شامل ہو۔ اس پیچیدہ کوالیفکیشن سسٹم کی وجہ سے ہر پوائنٹ اور ہر گول کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔
کینیڈا اور قطر کے درمیان یہ مقابلہ ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں پہلے بھی ایک بار آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ یہ میچ ستمبر 2022 میں آسٹریا میں ایک دوستانہ مقابلے کے طور پر کھیلا گیا تھا، جہاں کینیڈا نے 0-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں سائِل لیارن اور جوناتھن ڈیوڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے تھے۔ یہ فتح کینیڈا کی اس گروپ میں شامل ٹیموں کے خلاف واحد تاریخی کامیابی بھی ہے، جس کی وجہ سے اس میچ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کینیڈا کی ٹیم کے ہیڈ کوچ جیس مارش نے بوسنیا کے خلاف میچ کے بعد اپنی ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہاف میں ٹیم کے کھیل سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے مطابق ٹیم نے کھیل کے دوران جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا، جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو آئندہ میچوں میں زیادہ اعتماد، تیزی اور جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ کھیلنا ہوگا تاکہ وہ بہتر نتائج حاصل کر سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں 61 فیصد بال پوزیشن حاصل کی، جو کہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ان کی اب تک کی سب سے زیادہ بال کنٹرول کی شرح ہے۔ تاہم اس برتری کے باوجود ٹیم گول کرنے میں ناکام رہی اور میچ جیتنے کے بجائے صرف ایک پوائنٹ پر اکتفا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق کینیڈا کی ٹیم میں صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے اپنی فِنشنگ، دفاعی لائن اور دباؤ کے تحت کھیلنے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ قطر کے خلاف آنے والا میچ اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا کینیڈا اپنی کارکردگی میں بہتری لا کر پہلی فتح حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب قطر کی ٹیم بھی اس میچ کو اپنے لیے ایک موقع سمجھ رہی ہے۔ ٹیم کا مقصد نہ صرف اپنی پہلی فتح حاصل کرنا ہے بلکہ گروپ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانا بھی ہے۔ قطر کی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ میں دفاعی طور پر مضبوط کارکردگی دکھائی تھی، تاہم انہیں حملہ آور کھیل میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
یہ مقابلہ دونوں ٹیموں کے لیے “ڈو آر ڈائی” صورتحال اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک جیت ٹیم کو اگلے مرحلے کے قریب لے جا سکتی ہے جبکہ شکست کی صورت میں راستہ مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے دونوں ٹیمیں مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کی توقع ہے۔
گروپ بی کی موجودہ صورتحال نے ورلڈ کپ 2026 کے ابتدائی مرحلے کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے، جہاں ہر ٹیم کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں لیکن غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آنے والے میچز اس گروپ کی قسمت کا فیصلہ کریں گے اور یہ طے کریں گے کہ کون سی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوں گی۔
کینیڈا کے شائقین کو امید ہے کہ ٹیم اس بار اپنی کارکردگی میں بہتری لاتے ہوئے قطر کے خلاف پہلی فتح حاصل کرے گی اور ورلڈ کپ میں اپنی مہم کو مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھائے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

