کینیڈا

فیفا ورلڈ کپ 2026 اور گرمی کی لہر: برٹش کولمبیا میں بجلی کی مانگ ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا امکان

وینکوور: کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی سرگرمیوں اور موسمِ گرما کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث بجلی کی کھپت میں غیر معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ صوبائی بجلی فراہم کرنے والے ادارے بی سی ہائیڈرو (BC Hydro) نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران بجلی کی طلب موسمِ بہار کی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔بی سی ہائیڈرو کے مطابق گرم موسم، ایئر کنڈیشنرز کے بڑھتے ہوئے استعمال، تجارتی سرگرمیوں اور فیفا ورلڈ کپ سے متعلق تقریبات کے باعث بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صوبے میں بجلی کی طلب گزشتہ سال موسمِ گرما کے دوران قائم ہونے والے ریکارڈ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔بیان کے مطابق گزشتہ سال اگست میں برٹش کولمبیا میں بجلی کی طلب 8,652 میگاواٹ کی بلند ترین سطح تک ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ رواں سال بھی استعمال اس سطح کے قریب پہنچنے کی توقع ہے۔ بی سی ہائیڈرو کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز گرم موسم کی آمد کے ساتھ ہی بجلی کے استعمال میں تیزی آئے گی اور فیفا ورلڈ کپ کے میچز کے دوران یہ طلب مزید بڑھ سکتی ہے۔خصوصی طور پر وینکوور میں فیفا ورلڈ کپ کے میچوں کی میزبانی کے باعث شہر میں شائقینِ فٹبال کی بڑی تعداد متوقع ہے۔ آسٹریلیا اور ترکی کے درمیان ہونے والے میچ سمیت مختلف تقریبات، فین زونز، عوامی اسکریننگ اور واچ پارٹیز کے باعث تجارتی مراکز، ریستورانوں، ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر بجلی کا استعمال معمول سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔بی سی ہائیڈرو کے مطابق پیر کے روز بجلی کی طلب تقریباً 8,500 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو صوبے کی تاریخ میں موسمِ بہار کے دوران ریکارڈ سطح کے قریب شمار ہوگی۔ ادارے نے کہا ہے کہ اگر درجہ حرارت پیش گوئی سے زیادہ بڑھ گیا تو بجلی کی طلب موجودہ اندازوں سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق فیفا ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس نہ صرف سیاحت اور معیشت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام پر بھی اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ وینکوور میں ہزاروں مقامی اور بین الاقوامی شائقین کی موجودگی کے باعث اسٹیڈیمز، پبلک ٹرانزٹ، ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور کاروباری مراکز میں بجلی کے استعمال میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔بی سی ہائیڈرو نے تاہم عوام کو یقین دلایا ہے کہ ادارہ بڑھتی ہوئی طلب سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، تاہم یہ سطح سردیوں کے دوران ریکارڈ ہونے والی زیادہ سے زیادہ طلب سے اب بھی کم رہے گی۔حکام کے مطابق صوبے کا بجلی کا نظام مضبوط اور مستحکم ہے اور صارفین کو بجلی کی فراہمی میں کسی بڑے خلل کا خدشہ نہیں۔ بی سی ہائیڈرو نے بتایا کہ اس نے ورلڈ کپ کے دوران توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور مختلف اداروں کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ادارے نے مزید بتایا کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران بعض علاقوں میں طے شدہ مرمتی اور دیکھ بھال کے کاموں کو عارضی طور پر محدود کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ بجلی کے آلات اور تنصیبات جو فیفا کے مقامات، ٹرانزٹ نیٹ ورک اور وینکوور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بجلی فراہم کرتے ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر فعال رکھا جائے گا تاکہ ایونٹ کے دوران کسی قسم کی تکنیکی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔کینیڈا پہلی مرتبہ امریکا اور میکسیکو کے ساتھ مل کر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں فٹبال کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ایونٹ کے دوران توانائی، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولیات کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں کینیڈا کے بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت کا بھی اہم امتحان ہوں گی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ کے باعث مقامی کاروباروں، ہوٹل انڈسٹری، ریستورانوں اور سیاحتی شعبے کو اربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ بجلی اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو بھی اضافی دباؤ کے باوجود اپنی کارکردگی برقرار رکھنی ہوگی۔بی سی ہائیڈرو نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیں اور غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کریں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کے دوران بجلی کے نظام پر دباؤ کم رکھا جا سکے۔ ادارے کے مطابق مشترکہ کوششوں کے ذریعے نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہوگی بلکہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران بجلی کی مستحکم فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories