مصر کی تاریخی فتح، نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست
وینکوور: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مصر نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ورلڈ کپ مقابلوں میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی۔ 92 سالہ طویل انتظار کے بعد مصری ٹیم نے نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست دے کر نہ صرف ایک اہم فتح اپنے نام کی بلکہ عالمی فٹبال کی تاریخ میں ایک یادگار باب بھی رقم کر دیا۔ وینکوور میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں مصر نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے ابتدائی خسارے کو فتح میں تبدیل کر دیا۔
92 سالہ انتظار بالآخر ختم
مصر نے پہلی مرتبہ 1934 میں فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی، تاہم اس کے بعد کئی دہائیوں تک وہ عالمی کپ میں کوئی فتح حاصل نہ کر سکا۔ اس دوران مصری ٹیم مختلف ادوار میں ورلڈ کپ کا حصہ بنی، لیکن کامیابی ہمیشہ اس سے دور رہی۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں نیوزی لینڈ کے خلاف یہ کامیابی مصر کی تاریخ کی پہلی ورلڈ کپ جیت ثابت ہوئی، جس پر کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور شائقین نے بھرپور جشن منایا۔
میچ کے اختتام پر مصری کھلاڑیوں کے جذبات دیدنی تھے۔ میدان میں خوشی کے مناظر اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ یہ کامیابی ٹیم کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔
نیوزی لینڈ کا شاندار آغاز
میچ کا آغاز مصر کے لیے کچھ خاص حوصلہ افزا نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور 15ویں منٹ میں برتری حاصل کر کے مصری دفاع کو حیران کر دیا۔
نیوزی لینڈ کو ایک کارنر کک ملی جسے کپتان ٹم پینے نے انتہائی مہارت سے باکس کے اندر بھیجا۔ وہاں موجود فِن سرمن نے زبردست ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال میں پہنچا دیا اور اپنی ٹیم کو 1-0 کی برتری دلا دی۔
ابتدائی گول کے بعد نیوزی لینڈ نے کھیل پر گرفت مضبوط رکھنے کی کوشش کی جبکہ مصری کھلاڑی دباؤ کا شکار نظر آئے۔ پہلے ہاف میں مصر کی جانب سے چند حملے ضرور دیکھنے کو ملے، لیکن وہ انہیں گول میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔
پہلے ہاف میں مصر کی مایوس کن کارکردگی
پہلے ہاف کے دوران مصر کی ٹیم اپنے روایتی انداز میں کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ محمد صلاح سمیت کئی اہم کھلاڑی نیوزی لینڈ کے مضبوط دفاع کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔
نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے نہ صرف دفاعی محاذ پر عمدہ کارکردگی دکھائی بلکہ جوابی حملوں کے ذریعے مصر کے لیے مزید مشکلات پیدا کیں۔ پہلے ہاف کے اختتام تک نیوزی لینڈ کو 1-0 کی برتری حاصل تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مصر کا طویل انتظار مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسرے ہاف میں مصر کی شاندار واپسی
وقفے کے بعد مصر نے بالکل مختلف انداز میں میدان میں واپسی کی۔ کوچ کی ہدایات کے مطابق ٹیم نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور مسلسل حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
مصری کھلاڑیوں کی محنت رنگ لائی اور 58ویں منٹ میں ٹیم نے برابر ی کا گول کر دیا۔ محمد ہانی نے دائیں جانب سے شاندار کراس دیا جسے مصطفیٰ جیکو نے بہترین ہیڈر کے ذریعے گول میں تبدیل کر دیا۔
اس گول کے بعد مصری کھلاڑیوں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔
محمد صلاح نے دلائی فیصلہ کن برتری
اسکور برابر ہونے کے بعد مصر نے حملے مزید تیز کر دیے۔ 67ویں منٹ میں دنیا کے معروف فٹبالر اور مصری کپتان محمد صلاح نے اپنی کلاس کا مظاہرہ کیا۔
مصطفیٰ جیکو اور محمد صلاح کے درمیان عمدہ پاسنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد صلاح نے بہترین انداز میں گیند کو گول پوسٹ کے اندر پہنچا دیا۔ اس گول کے ساتھ مصر کو 2-1 کی برتری حاصل ہو گئی۔
یہ محمد صلاح کا میچ میں پہلا گول تھا، لیکن اس کی اہمیت بے حد زیادہ تھی کیونکہ اسی گول نے مصر کو فتح کے قریب پہنچا دیا۔
ٹریزیگیٹ نے کامیابی پر مہر ثبت کر دی
نیوزی لینڈ نے خسارہ پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن مصری دفاع نے انہیں کوئی بڑا موقع فراہم نہیں کیا۔
82ویں منٹ میں مصر کو ایک اور کارنر کک ملی۔ محمد صلاح نے گیند کو مہارت کے ساتھ باکس میں پہنچایا جہاں موجود ٹریزیگیٹ نے شاندار فنش کرتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔
اس گول کے ساتھ مصر کی برتری 3-1 ہو گئی اور نیوزی لینڈ کی واپسی کی تمام امیدیں تقریباً ختم ہو گئیں۔
مصر کے لیے نئی امید
اس تاریخی کامیابی نے مصر کے ورلڈ کپ سفر کو نئی زندگی دے دی ہے۔ محمد صلاح کی قیادت میں مصری ٹیم نے ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر کسی بھی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فتح صرف تین پوائنٹس حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ مصری فٹبال کے لیے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہے۔ 92 سال بعد حاصل ہونے والی یہ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے بھی یادگار رہے گی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مصر کی اس تاریخی جیت نے نہ صرف شائقین کے دل جیت لیے بلکہ دنیا بھر میں مصری فٹبال کی اہمیت کو بھی مزید اجاگر کر دیا ہے۔ اب مصری ٹیم کی نظریں اگلے مرحلے میں رسائی اور مزید کامیابیوں پر مرکوز ہیں، جبکہ شائقین کو امید ہے کہ یہ تاریخی فتح ٹیم کے لیے ایک نئے سنہری دور کا آغاز ثابت ہوگی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

