کینیڈا نے ڈبہ بند سبزیوں کی درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرف عائد کر دیا، مقامی صنعت کے تحفظ کا اقدام
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے مقامی زرعی اور فوڈ پروسیسنگ صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دنیا بھر سے درآمد ہونے والی ڈبہ بند سبزیوں (Canned Vegetables) پر 10 فیصد عارضی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام ملکی صنعت کو درپیش فوری چیلنجز سے نمٹنے اور مقامی پروڈیوسرز کو عالمی مسابقت کے مقابلے میں سہارا فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے جمعہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور زیادہ سے زیادہ 200 دن تک برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کینیڈا کے اندر ڈبہ بند سبزیوں کی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جو حالیہ عرصے میں درآمدات میں اضافے کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
کن ممالک پر ٹیرف لاگو ہوگا؟
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ عارضی ٹیرف تمام ممالک سے درآمد ہونے والی ڈبہ بند سبزیوں پر لاگو ہوگا، تاہم امریکہ، میکسیکو، اسرائیل، چلی اور بعض ترقی پذیر ممالک اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ استثنا کینیڈا کی بین الاقوامی تجارتی ذمہ داریوں اور موجودہ تجارتی معاہدوں کے تحت دیا گیا ہے۔
مقامی صنعت کے تحفظ کو ترجیح
وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کینیڈین زرعی پیداوار اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبے کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا:
“حکومت کینیڈین پروڈیوسرز کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ انہیں عالمی چیلنجز کے مقابلے میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ضروری معاونت حاصل ہو۔”
ان کا کہنا تھا کہ عارضی حفاظتی ٹیرف کے نفاذ کا مقصد ایک متوازن حکمت عملی اپنانا ہے تاکہ ایک طرف مقامی ڈبہ بند سبزیوں کی صنعت کو ریلیف ملے اور دوسری جانب صارفین کے لیے خوراک کی دستیابی اور مناسب قیمتوں کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔
صنعت کی جانب سے خیرمقدم
کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے زراعتی امور کے ترجمان جان بارلو نے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت کے اندر طویل عرصے سے یہ خدشات موجود تھے کہ بعض ممالک اپنی اضافی پیداوار کینیڈا میں کم قیمتوں پر فروخت کر کے مقامی مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد تجارتی پابندیوں کے بعد یہ خطرہ بڑھ گیا تھا کہ وہ ممالک اپنی مصنوعات کے لیے متبادل منڈیوں کی تلاش میں کینیڈا کا رخ کریں گے۔
اسی طرح کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ اور اونٹاریو کے ٹماٹر کے کاشتکار ڈیو ایپس نے بھی حکومتی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مقامی کسانوں اور فوڈ پروسیسنگ صنعت کے مفاد میں ہے۔
ان کے مطابق:
“بہت سے ممالک جو اپنی مصنوعات امریکہ کو فروخت کرتے تھے، اب اچانک نئی منڈیوں کی تلاش میں تھے۔ اس صورتحال نے مصنوعات کے معیار اور قیمتوں کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کر دیے تھے۔”
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اس اقدام کو صنعت کی وسیع حمایت حاصل ہے۔
صارفین پر اثرات کا امکان کم
ڈلہوزی یونیورسٹی کے ایگریکلچر اور فوڈ اینالیٹکس لیب کے ڈائریکٹر سلوین شارلبوا کے مطابق اس ٹیرف کے باعث فوری طور پر صارفین کو قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ امریکہ کینیڈا کو ڈبہ بند سبزیوں کا ایک بڑا سپلائر ہے اور اسے اس ٹیرف سے استثنا حاصل ہے، اس لیے مارکیٹ میں فوری قلت یا قیمتوں میں اضافے کا امکان کم ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ٹیرف 200 دن سے زیادہ عرصے تک برقرار رہا تو مستقبل میں قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
“ڈبہ بند سبزیوں کی صنعت ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں چند سینٹ کا فرق بھی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے 10 فیصد ٹیرف کافی بڑا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔”
تحقیقاتی عمل جاری
وزارت خزانہ کے مطابق یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا انحصار کینیڈین انٹرنیشنل ٹریڈ ٹربیونل کی جاری تحقیقات پر ہوگا۔
یہ ادارہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا منجمد اور ڈبہ بند سبزیوں کی بڑھتی ہوئی درآمدات کینیڈا کی مقامی فوڈ پروسیسنگ صنعت کو نقصان پہنچا رہی ہیں یا نہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے کی متوقع تاریخ 9 ستمبر مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں یہ ثابت نہ ہو سکا کہ درآمدات سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے تو یہ عارضی ٹیرف ختم کر دیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کا مؤقف
وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ مقامی سبزی پیدا کرنے والوں، فوڈ پروسیسرز اور درآمدی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ ٹیرف ایک “عارضی پل” کا کردار ادا کرے گا، جو اس وقت تک مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرے گا جب تک تجارتی ٹربیونل اپنی حتمی سفارشات پیش نہیں کر دیتا۔
حکومت کو امید ہے کہ تحقیقات کے نتائج بھی اسی سمت جائیں گے جس کی نشاندہی وزارت خزانہ کے ابتدائی جائزے میں کی گئی ہے۔
خوراک کی صنعت کے لیے اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق یہ اقدام کینیڈا کی زرعی اور فوڈ پروسیسنگ صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مسابقت، درآمدات میں اضافے اور تجارتی تنازعات نے مقامی پیداوار پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، روزگار کے مواقع برقرار رکھنا اور کینیڈین فوڈ سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ صارفین کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

