کینیڈا، نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس کا بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اوٹاوا: کینیڈا، نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس نے بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے اور قانونی تجارت کے محفوظ بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) اور تین یورپی ممالک کے کسٹمز اداروں کے درمیان ایک اہم لیٹر آف انٹینٹ (Letter of Intent) پر دستخط کیے گئے۔
معاہدے پر دستخط کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کی صدر ایرن او گورمن، نیدرلینڈز کسٹمز ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر جنرل نینیٹ وان شیلون، بیلجیم کسٹمز اینڈ ایکسائز کے ایڈمنسٹریٹر جنرل کرسٹیان وانڈرویرن اور فرانس کے کسٹمز و بالواسطہ ٹیکسز کے ڈائریکٹر جنرل فلوریان کولاس نے کیے۔
اس معاہدے کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا، معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ بڑھانا، بہترین عملی طریقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا اور مشترکہ آپریشنز کے ذریعے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچانا ہے۔
حکام کے مطابق بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ اکثر کمزور اور غیر محتاط افراد کو نشانہ بناتے ہیں اور انہیں منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ افراد اس بات سے بھی بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ منشیات اسمگلنگ کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر چاروں ممالک کے کسٹمز ادارے عوامی آگاہی بڑھانے، ممکنہ متاثرین کو خبردار کرنے اور جرائم پیشہ عناصر کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں۔
یہ معاہدہ 2 جون 2026 کو اوٹاوا میں ایک خصوصی تقریب کے دوران طے پایا۔ اس موقع پر یورپی وفد نے کینیڈین حکام سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں کسٹمز تعاون، دھوکہ دہی کے خلاف اقدامات، سرحدی سلامتی، مصنوعی ذہانت پر مبنی بارڈر ٹیکنالوجی اور کثیرالجہتی بین الاقوامی تعاون جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دورے کے دوران یورپی وفد نے مونٹریال میں کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کی مختلف تنصیبات کا معائنہ بھی کیا، جن میں پورٹ آف مونٹریال، مونٹریال ٹروڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لیو بلانشیٹ میل پروسیسنگ سینٹر شامل تھے۔ وفد نے ان جدید آلات اور طریقہ کار کا مشاہدہ کیا جن کی مدد سے کینیڈین افسران ممنوعہ اشیاء کو ضبط کرتے اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کو ناکام بناتے ہیں۔
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کی صدر ایرن او گورمن نے کہا کہ سرحد پار منظم جرائم کا مقابلہ صرف قومی سطح پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا، نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے تاکہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملیوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب جرائم پیشہ تنظیمیں کینیڈا اور یورپ کے درمیان موجود تجارتی اور سفری راستوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اسی رفتار سے اپنی صلاحیتوں اور تعاون کو بڑھانا ہوگا۔ ان کے مطابق معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں اضافہ دونوں براعظموں میں عوامی تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا۔
نیدرلینڈز کسٹمز ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر جنرل نینیٹ وان شیلون نے کہا کہ نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس کو بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس سرحدوں کی پابندی نہیں کرتے، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سرحدوں سے بالاتر ہو کر تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کی جانب بھیجی جانے والی بھنگ (Cannabis) کی غیر قانونی کھیپوں اور یورپ سے کینیڈا منتقل ہونے والی کیٹامین اور مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے میں کینیڈا کے ساتھ تعاون انتہائی اہم ہے۔
بیلجیم کسٹمز کے سربراہ کرسٹیان وانڈرویرن نے کہا کہ منظم جرائم کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بیلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ “مافیا نیٹ ورکس کے معاشی ماڈل کو توڑنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کوئی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔”
فرانس کے ڈائریکٹر جنرل فلوریان کولاس نے کہا کہ آج کے دور میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس پہلے سے زیادہ منظم اور لچکدار ہو چکے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے چاروں ممالک نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی نشاندہی، ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور ان کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر منشیات اسمگلنگ، منظم جرائم اور سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کینیڈا اور یورپی ممالک کا یہ مشترکہ اقدام نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنائے گا بلکہ دونوں خطوں میں عوامی سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

