سیاست

البرٹا میں علیحدگی ریفرنڈم کی تشہیری مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ، اپوزیشن کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید

📷 Millions spent on Alberta separatism referendum campaign(Instant image)

البرٹا میں علیحدگی ریفرنڈم کی تشہیری مہم پر لاکھوں ڈالر خرچ، اپوزیشن کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید,اخراجات کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ

ناہید ننشی کا دعویٰ: ریفرنڈم کی تشہیر پر اب تک کم از کم 3 لاکھ 65 ہزار ڈالر خرچ، عوام کے ٹیکس کا پیسہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے

ایڈمنٹن: کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں آئندہ 19 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ ریفرنڈم کی تیاریوں کے دوران اخراجات کا معاملہ سیاسی تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ صوبے کی اپوزیشن جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت صرف ریفرنڈم کی تشہیر اور عوام تک اس کی معلومات پہنچانے پر ہی لاکھوں ڈالر خرچ کر رہی ہے، جبکہ صوبے کو صحت، مہنگائی اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

این ڈی پی کے رہنما ناہید ننشی نے جمعرات کو کہا کہ معلومات تک رسائی کے قانون (Freedom of Information) کے تحت حاصل کیے گئے سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے اب تک کم از کم 3 لاکھ 65 ہزار کینیڈین ڈالر ٹیلی ویژن پر خصوصی خطاب اور سوشل میڈیا پر تشہیری ویڈیوز کی تیاری و تشہیر پر خرچ کیے ہیں۔

اخراجات کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ

ناہید ننشی نے مطالبہ کیا کہ اگر البرٹا کے عوام سے ریفرنڈم کے اخراجات برداشت کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تو صوبائی حکومت کو اس پوری مہم پر ہونے والے اخراجات کی مکمل تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ ریفرنڈم، تشہیری مہم، مشاورتی خدمات اور دیگر انتظامی امور پر مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے، تاکہ ٹیکس دہندگان کو معلوم ہو سکے کہ ان کا پیسہ کہاں استعمال ہو رہا ہے۔

19 اکتوبر کو 10 سوالات پر ریفرنڈم

البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم کے لیے 10 سوالات تجویز کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا البرٹا کینیڈا کا حصہ برقرار رکھے یا پھر کنفیڈریشن سے علیحدگی کے لیے دوسرے، باقاعدہ اور قانونی طور پر پابند ریفرنڈم کے عمل کا آغاز کیا جائے۔

اس کے علاوہ امیگریشن پالیسی، آئینی اصلاحات اور صوبائی خودمختاری سے متعلق متعدد سوالات بھی ووٹرز کے سامنے رکھے جائیں گے۔

حکومت کا مؤقف

وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ علیحدگی سے متعلق سوال ریفرنڈم میں شامل کرنے کا مقصد اس مسئلے پر جاری سیاسی بحث کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق حکومت اور ان کی جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (UCP) باضابطہ طور پر اس بات کی حامی ہے کہ البرٹا کینیڈا کا حصہ برقرار رہے، تاہم عوام کو اس معاملے پر اپنی رائے دینے کا حق ملنا چاہیے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو امیگریشن، آئینی اصلاحات اور صوبائی اختیارات سے متعلق اہم فیصلوں میں شریک کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن کا سخت ردعمل

دوسری جانب ناہید ننشی نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر البرٹا کے شہری کینیڈا میں رہنے کے حامی ہیں اور علیحدگی کا معاملہ عوام کی ترجیح نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اپنی جماعت کے اندر موجود علیحدگی پسند عناصر کو مطمئن کرنے کے لیے یہ ریفرنڈم کرا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا:

“یہ وزیر اعلیٰ کا ایک مہنگا سیاسی کھیل ہے اور اس کی قیمت البرٹا کے تمام شہری اپنے ٹیکسوں کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔”

معاشی تجزیے پر بھی ڈیڑھ ملین ڈالر

صوبائی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ علیحدگی کی ممکنہ معاشی لاگت کا جائزہ لینے کے لیے 15 لاکھ کینیڈین ڈالر تک خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ حکومت نے امیگریشن اور آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم سوالات کی حمایت میں ایک خصوصی ویب سائٹ بھی تیار کی ہے، جس پر 3 لاکھ ڈالر سے زائد خرچ کیے جا رہے ہیں۔

اس ویب سائٹ کے ذریعے ووٹروں کو ان تجاویز کی حمایت کرنے اور ساتھ ہی البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

حکومت کا دفاع

ناہید ننشی کی تنقید کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے شہریوں کو ریفرنڈم میں شامل تمام دس سوالات کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ووٹرز مکمل معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کریں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کے ووٹ کے نتائج صوبے کے مستقبل پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ تشہیری مہم آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہے گی تاکہ عوام تک زیادہ سے زیادہ معلومات پہنچائی جا سکیں۔

انتخابی اخراجات میں مزید اضافے کا خدشہ

الیکشنز البرٹا کے مطابق ریفرنڈم کی مجموعی لاگت کا اندازہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ووٹنگ مراکز، انتخابی عملے اور دیگر انتظامی اخراجات کا مکمل تعین نہ ہو جائے۔

ادارے نے بتایا کہ اس بڑے انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے تقریباً 60 ہزار انتخابی کارکنوں کی ضرورت ہوگی، جو 2023 کے صوبائی عام انتخابات میں تعینات تقریباً 13 ہزار اہلکاروں سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔

2023 کے عام انتخابات پر تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ کینیڈین ڈالر خرچ ہوئے تھے، جبکہ موجودہ ریفرنڈم پر اس سے کہیں زیادہ لاگت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نئے انتخابی قوانین بھی اخراجات بڑھائیں گے

ناہید ننشی کا کہنا ہے کہ یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے انتخابی قوانین بھی اخراجات میں مزید اضافہ کریں گے۔

ان قوانین کے تحت تمام بیلٹ پیپرز کی 48 گھنٹوں کے اندر دستی گنتی (Hand Count) لازمی قرار دی گئی ہے، جس کے لیے اضافی عملہ اور وسائل درکار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جبکہ لابیسٹ، مشیر اور کنسلٹنٹس ریفرنڈم سے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں، البرٹا کے عام شہری مہنگائی، رہائشی اخراجات میں اضافے اور اسپتالوں کے ہنگامی شعبوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے حقیقی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

عوامی مسائل کو ترجیح دینے کا مطالبہ

ناہید ننشی نے زور دے کر کہا کہ ریفرنڈم پر خرچ ہونے والا ہر ڈالر دراصل ان شعبوں سے کم ہو رہا ہے جہاں البرٹا کے شہری فوری بہتری چاہتے ہیں، جیسے صحت، تعلیم، روزگار اور مہنگائی پر قابو پانا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں ریفرنڈم کی لاگت، اس کے سیاسی مقاصد اور عوامی حمایت کا مسئلہ البرٹا کی سیاست کا سب سے اہم موضوع بن سکتا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories