کیمبرج: سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ایسی نئی ویکسین ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو مستقبل میں متعدد خطرناک وائرسز کے خلاف وسیع تحفظ فراہم کرنے اور ممکنہ عالمی وباؤں کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے محققین کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک ایسی ویکسین، جس کا بنیادی فعال جزو مکمل طور پر کمپیوٹر سمیولیشنز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا، انسانوں پر آزمائش کے مرحلے تک پہنچا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کو خاص طور پر ساربیکو کورونا وائرسز (Sarbeco Coronaviruses) کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس وائرس گروپ میں SARS-CoV-2 بھی شامل ہے، جو کووڈ-19 عالمی وبا کا سبب بنا تھا، جبکہ اس خاندان کے دیگر وائرس قدرتی طور پر جانوروں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نئی ویکسین نہ صرف موجودہ کورونا وائرسز کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ایسے متعلقہ وائرسز کے خلاف بھی مدافعت پیدا کر سکتی ہے جو مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کر نئی وباؤں کا سبب بن سکتے ہیں۔
تحقیقی نتائج معروف سائنسی جریدے Journal of Infection میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دسمبر 2021 سے ستمبر 2023 کے درمیان ہونے والے ابتدائی کلینیکل ٹرائل میں 18 سے 50 سال کی عمر کے 39 صحت مند رضاکاروں نے حصہ لیا۔
آزمائش کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ویکسین نے رضاکاروں میں مؤثر مدافعتی ردعمل پیدا کیا۔ یہ ردعمل صرف SARS-CoV-2 اور SARS وائرس تک محدود نہیں تھا بلکہ ان چمگادڑوں میں پائے جانے والے متعلقہ وائرسز کے خلاف بھی دیکھا گیا جو مستقبل میں انسانوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق ویکسین کا مرکزی جزو، جسے “سپر اینٹی جن” قرار دیا جا رہا ہے، مختلف اقسام کے ویکسین پلیٹ فارمز کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے مستقبل میں اسے مختلف ٹیکنالوجیز کے ذریعے مزید مؤثر انداز میں تیار اور تقسیم کرنا ممکن ہوگا۔
اس آزمائش میں ویکسین کو DNA Vaccine کی شکل میں ایک جدید مائیکرو فلوئیڈ جیٹ سسٹم کے ذریعے جسم میں پہنچایا گیا۔ اس طریقہ کار میں روایتی سوئی استعمال نہیں کی جاتی، جس سے انجیکشن سے خوفزدہ افراد کے لیے ویکسینیشن کا عمل زیادہ آسان بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئی کے بغیر ویکسین دینے کی یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہمات کے دوران نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں روایتی طبی سہولیات محدود ہوں یا بڑی تعداد میں لوگوں کو مختصر وقت میں ویکسین فراہم کرنا مقصود ہو۔
یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے پروفیسر ساؤل فاؤسٹ، جو اس ٹرائل کے چیف انویسٹی گیٹر تھے، نے کہا کہ انفلوئنزا، کورونا وائرسز اور ایبولا جیسے وائرس مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب تک نئی ویکسین تیار ہو کر عوام تک پہنچتی ہے، وائرس کی نئی اقسام سامنے آ چکی ہوتی ہیں، جس کے باعث ویکسین کی مؤثریت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ویکسین نظام بنیادی طور پر “ردِعملی” نوعیت کا ہے، یعنی وائرس کے پھیلنے کے بعد اس کے خلاف ویکسین تیار کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس نئی نسل کی یہ یونیورسل ویکسینز مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جا رہی ہیں۔
پروفیسر فاؤسٹ کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت وائرس کی متعدد اقسام کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایسے متعلقہ وائرسز کے خلاف بھی مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو ابھی تک انسانوں میں ظاہر نہیں ہوئے لیکن مستقبل میں وبائی خطرہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی اگلے مراحل میں بھی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ عالمی سطح پر وباؤں سے نمٹنے کی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ کووڈ-19 کے تجربے نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ نئی وباؤں کے خلاف پہلے سے تیاری انتہائی ضروری ہے، اور مصنوعی ذہانت اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ اب ویکسین کے فیز ٹو (Phase Two) ٹرائل کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مرحلے میں زیادہ بڑی اور متنوع آبادی پر ویکسین کا تجربہ کیا جائے گا تاکہ اس کی حفاظت، مؤثریت اور مختلف گروہوں میں مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کی صلاحیت کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی جانے والی ایسی ویکسینز نہ صرف کورونا وائرسز بلکہ دیگر تیزی سے تبدیل ہونے والے وائرسز کے خلاف بھی مؤثر تحفظ فراہم کر سکیں گی، جس سے عالمی صحت کے نظام کو وباؤں سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور جدید ہتھیار میسر آئے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

