امریکا امن کیلئے پرعزم ہے، ہم لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور وہ لبنان، حزب اللہ، اسرائیل اور دیگر تمام متعلقہ محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتا ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں پر قائم رہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکے۔
امریکی صدر نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری کیا، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق خبروں اور عالمی معاشی حالات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کو امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔
جنگ بندی کے حوالے سے امید
صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا مسلسل اس کوشش میں مصروف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم ہو اور تمام فریق ایک جامع جنگ بندی کی جانب بڑھیں۔ ان کے مطابق لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں اور امریکا اس عمل کی حمایت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام فریق ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول امریکا کی خواہش ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مذاکرات اور سیاسی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔
مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر زور
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام فریق مذاکراتی عمل میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ امن کی کوششوں میں پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ قوتیں اپنے عزم پر قائم رہیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کا قیام نہ صرف مقامی ممالک بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی پر اطمینان
امریکی صدر نے عالمی منڈیوں کی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹیں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹوں میں اضافے کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی امریکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور مارکیٹوں میں مثبت رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ معاشی حالات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسیوں کے نتیجے میں اقتصادی میدان میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور عالمی منڈیوں کا ردعمل بھی اس کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران کو 300 ارب ڈالر دینے کی خبروں کی تردید
صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق گردش کرنے والی بعض خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ امریکا ایران کو 300 ارب ڈالر ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے ایسی خبروں کو “جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی پروپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے ایران کو کسی بھی قسم کی ایسی مالی ادائیگی نہیں کی جا رہی جس کا بعض ذرائع ابلاغ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ایران کے میزائل پروگرام پر مؤقف
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے لیے مکمل طور پر اس صلاحیت سے محروم ہونا بعض حلقوں کی نظر میں غیر منصفانہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک دفاعی مقاصد کے لیے میزائل صلاحیت رکھتے ہیں تو ایک متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت کا ہونا قابلِ قبول سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی عسکری صلاحیت بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔
خلیج میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہے گی
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا خلیجی خطے میں اپنی فوجی موجودگی فوری طور پر ختم نہیں کرے گا۔
ان کے مطابق اگرچہ ایران کے ساتھ طویل عرصے سے جاری تنازع میں کمی آئی ہے اور حالات میں بہتری کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، تاہم خطے کی حساس صورتحال کے پیش نظر امریکا کچھ عرصے تک اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج کا مقصد خطے میں استحکام، عالمی بحری راستوں کے تحفظ اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششیں جاری
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں اور متعدد ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان، اسرائیل، حزب اللہ اور ایران سے متعلق معاملات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں، اسی لیے امریکا سمیت کئی بڑی طاقتیں ان تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق امن، استحکام اور مذاکرات کے راستے کو اختیار کریں گے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی اور تصادم سے بچایا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

