دنیا

دہلی کے مالویہ نگر کے ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی، 21 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

📷 A Terrible Fire Breaks Out at Delhi Hotel; 21 Dead, Dozens Injured

دہلی کے مالویہ نگر کے ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی، 21 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں واقع ہوٹل فلوریس اسٹے میں بدھ کی صبح پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہوٹل میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی اور جھلس گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی اور امدادی اداروں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق صبح کے وقت ہوٹل کے اندر دھواں بھرنا شروع ہوا جس کے بعد آگ تیزی سے مختلف منزلوں تک پھیل گئی۔ کئی افراد اس وقت اپنے کمروں میں موجود تھے اور اچانک پیش آنے والے اس حادثے کے باعث انہیں باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت کے مختلف حصوں سے شعلے اور دھویں کے بادل دور سے دیکھے جا سکتے تھے۔

اطلاع ملتے ہی دہلی فائر سروس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیوں کو موقع پر تعینات کیا گیا۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ کو قابو میں کیا۔ اس دوران پولیس، مقامی انتظامیہ اور طبی امدادی ٹیموں نے بھی مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا۔

ریسکیو آپریشن کے دوران ہوٹل میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ امدادی کارکنوں نے سیڑھیوں اور دیگر آلات کی مدد سے مختلف منزلوں پر موجود لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔ حکام کے مطابق 40 سے زائد افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس افسوسناک واقعے میں جان گنوانے والوں میں مرد، خواتین اور دیگر مسافر شامل ہیں جو ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔ کئی افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کو حادثے کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ اسپتالوں کے باہر لواحقین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جہاں ہر کوئی اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا نظر آیا۔

علاقے کے رہائشیوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے فوراً بعد لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ کچھ افراد نے کھڑکیوں اور بالکونیوں سے مدد کے لیے آوازیں لگائیں جبکہ بعض نے جان بچانے کے لیے اوپری منزلوں سے نیچے اترنے کی کوشش کی۔

پولیس نے حادثے کے بعد ہوٹل کے اطراف کا علاقہ گھیرے میں لے لیا تاکہ امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں شارٹ سرکٹ، حفاظتی انتظامات میں کوتاہی یا دیگر تکنیکی وجوہات شامل ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات شہری علاقوں میں قائم ہوٹلوں اور تجارتی عمارتوں میں آگ سے متعلق حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگر عمارتوں میں مناسب فائر سیفٹی سسٹم، ہنگامی اخراج کے راستے اور آگ بجھانے کے جدید آلات موجود ہوں تو جانی نقصان کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

حادثے کے بعد دہلی انتظامیہ نے متاثرہ افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ حکام نے ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی اور اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دہلی کے مالویہ نگر میں پیش آنے والا یہ المناک حادثہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ عوامی مقامات، ہوٹلوں اور کثیر منزلہ عمارتوں میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کتنا ضروری ہے۔ فی الحال امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے نقصان پر غمزدہ ہیں۔ پورا شہر اس سانحے پر سوگوار ہے اور لوگ ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کر رہے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories