فرسٹ نیشنز، انوئٹ اور میٹس برادریوں کی ثقافت اور خدمات کو خراجِ تحسین
کینیڈا بھر میں اتوار کے روز نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے نہایت عقیدت، احترام اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس سال یہ دن ایک خاص اہمیت کا حامل تھا کیونکہ ملک بھر میں مقامی اقوام، ان کی تاریخ، ثقافت، روایات اور کینیڈا کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف تقریبات، ثقافتی پروگراموں اور یادگاری اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔
یہ نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے کی 30ویں سالگرہ تھی، جس کے موقع پر کینیڈا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور فرسٹ نیشنز، انوئٹ اور میٹس برادریوں کے ورثے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس دن کا مقصد نہ صرف مقامی اقوام کی تاریخ اور ثقافت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ ان کی قربانیوں، جدوجہد اور کینیڈین معاشرے کے لیے خدمات کو بھی تسلیم کرنا ہے۔
سمر سولسٹس کے موقع پر خصوصی اہمیت
نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے ہر سال جون میں موسمِ گرما کے آغاز یعنی سمر سولسٹس کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ سال کا یہ سب سے طویل دن مقامی اقوام کے لیے گہری روحانی، ثقافتی اور روایتی اہمیت رکھتا ہے۔ کئی صدیوں سے فرسٹ نیشنز، انوئٹ اور میٹس برادریاں اس دن کو اپنی روایات، تقریبات اور اجتماعی سرگرمیوں کے ذریعے مناتی آئی ہیں۔
یہ دن انڈیجنس پیپلز منتھ کے اختتامی مرحلے کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جس کے دوران پورے مہینے مقامی اقوام کی تاریخ، زبانوں، ثقافتوں اور کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
نیشنل ایبورجینل ڈے سے نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے تک
اس دن کی سرکاری حیثیت کا آغاز 1996 میں ہوا تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل رومیو لی بلانک نے مقامی اقوام کی طویل جدوجہد اور مطالبات کے بعد نیشنل ایبورجینل ڈے منانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے رکھا گیا تاکہ یہ اصطلاح کینیڈا کی تمام مقامی برادریوں کی بہتر نمائندگی کر سکے۔
گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ دن قومی سطح پر ایک اہم موقع بن چکا ہے جہاں کینیڈین عوام مقامی اقوام کی تاریخ، روایات اور ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔
اوٹاوا میں یادگار تقریب کا انعقاد
دارالحکومت اوٹاوا میں اس موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس کا اہتمام ایبورجینل ویٹرنز آٹوکٹونز کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب میں نیشنل ایبورجینل ویٹرنز مونومنٹ کی نقاب کشائی کی 25ویں سالگرہ بھی منائی گئی۔
یہ یادگار کینیڈا کی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والے مقامی سابق فوجیوں کی قربانیوں اور خدمات کے اعتراف میں تعمیر کی گئی تھی۔ تقریب میں سابق فوجیوں، موجودہ فوجی اہلکاروں، مقامی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
یادگار کی علامتی اہمیت
نیشنل ایبورجینل ویٹرنز مونومنٹ معروف مقامی فنکار نوئل لائیڈ پینے کی تخلیق ہے، جن کا تعلق سسکیچیوان کی پیپی کیسس فرسٹ نیشن سے ہے۔
کانسی سے تیار کردہ اس یادگار میں چار جنگجوؤں کی تصاویر شامل ہیں جو مقامی اقوام کی بہادری اور قربانیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ ہرن، ریچھ، بھینسا اور بھیڑیا بھی دکھائے گئے ہیں، جو مختلف روحانی اور ثقافتی اقدار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان تمام اشکال کے اوپر ایک عقاب موجود ہے جو خالق اور روحانی رہنمائی کی نمائندگی کرتا ہے۔
شرکاء نے یادگار کو مقامی اقوام کی تاریخ، قربانیوں اور شناخت کا ایک اہم نشان قرار دیا۔
مقامی سابق فوجیوں کی قربانیوں کا اعتراف
تقریب کے دوران مقررین نے کینیڈا کی مختلف جنگوں میں حصہ لینے والے مقامی فوجیوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
کیٹیگن زیبی انیشینابیگ سے تعلق رکھنے والے بزرگ اوریل دوبے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہزاروں مقامی مرد و خواتین نے اس ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، حالانکہ ماضی میں انہیں مختلف قسم کی ناانصافیوں اور امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی فوجیوں نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت مختلف عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا، لیکن جنگوں کے بعد انہیں وہ حقوق اور مراعات حاصل نہیں ہو سکیں جو دیگر سابق فوجیوں کو دی گئیں۔
نوئل پینے کے والد کی جدوجہد
تقریب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ یادگار کے خالق نوئل لائیڈ پینے کے والد دوسری جنگِ عظیم کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان سمیت متعدد مقامی فوجیوں کو جنگ کے بعد مختلف مشکلات اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
مقررین نے کہا کہ انہی حالات اور ناانصافیوں نے نوئل پینے کو اس یادگار کی تخلیق پر آمادہ کیا تاکہ مقامی فوجیوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے آگاہ کیا جا سکے۔
تقریب میں بڑی تعداد میں شرکت
اوٹاوا میں منعقدہ تقریب میں متعددنے شرکت کی، جن میں سابق فوجی، کینیڈین مسلح افواج کے موجودہ اہلکار، مقامی رہنما، ثقافتی کارکن اور عام شہری شامل تھے۔ کئی ایسے افراد بھی تقریب میں موجود تھے جو 25 برس قبل یادگار کی پہلی نقاب کشائی کی تقریب کا حصہ بنے تھے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقامی اقوام کی تاریخ، ثقافت اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں بھی ان کے حقوق، شناخت اور روایات کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
نیشنل انڈیجنس پیپلز ڈے کے موقع پر پورے کینیڈا میں منعقد ہونے والی تقریبات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ فرسٹ نیشنز، انوئٹ اور میٹس برادریاں کینیڈا کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں، اور ان کی خدمات و قربانیوں کا اعتراف ملک کے روشن اور جامع مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

