کمیونٹی

البرٹا میں سرکاری اور نجی صحت کے نظام کو یکجا کرنے کا نیا ماڈل متعارف

📷 Image credit to Social Media

البرٹا میں سرکاری اور نجی صحت کے نظام کو یکجا کرنے کا نیا ماڈل متعارف، اپوزیشن کی شدید تنقید

کینیڈا کے صوبے البرٹا کی حکومت نے صحتِ عامہ کے شعبے میں ایک اہم اور متنازعہ اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے “ڈوئل پریکٹس” (Dual Practice) ماڈل متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بعض ڈاکٹر سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بیک وقت خدمات انجام دے سکیں گے۔ صوبائی حکومت کے مطابق یہ نیا نظام رواں سال ستمبر سے نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد صحت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا، سرجریوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور مریضوں کے انتظار کے دورانیے کو مختصر بنانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل البرٹا کے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور صحت کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے، تاہم اپوزیشن جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے اس منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عوامی صحت کے نظام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ڈوئل پریکٹس ماڈل کیا ہے؟

نئے ماڈل کے تحت اہل ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں اور نجی طبی مراکز دونوں میں خدمات انجام دے سکیں گے اور دونوں جگہوں پر کی جانے والی سرجریوں کے عوض معاوضہ حاصل کر سکیں گے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے طبی ماہرین کی صلاحیتوں سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے گا اور مریضوں کو علاج کے لیے طویل انتظار کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم یہ سہولت تمام ڈاکٹروں کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ عام فیملی ڈاکٹر اس پروگرام میں شامل نہیں ہو سکیں گے، البتہ وہ فیملی ڈاکٹر جو اینستھیزیا یا سرجیکل اسسٹنس کا خصوصی تجربہ رکھتے ہیں، اس منصوبے کے اہل ہو سکتے ہیں۔

کن سرجریوں کی اجازت ہوگی؟

البرٹا حکومت کے مطابق نجی اور سرکاری شعبوں میں مشترکہ طور پر صرف وہی سرجریاں کی جا سکیں گی جن کی منظوری البرٹا کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز نے دی ہے۔

ان سرجریوں میں شامل ہیں:

  • کولہے (Hip) کی تبدیلی
  • گھٹنے (Knee) کی تبدیلی
  • موتیے (Cataract) کی سرجری
  • کان، ناک اور گلے کی مخصوص جراحیاں
  • گائناکالوجیکل سرجریاں
  • جلد سے متعلق بعض جراحی کارروائیاں
  • پلاسٹک سرجری کے منتخب کیسز
  • ہرنیا کی مرمت (Hernia Repair)

حکومت کا کہنا ہے کہ ان مخصوص سرجریوں کو نجی مراکز میں انجام دینے سے سرکاری اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا اور زیادہ مریض بروقت علاج حاصل کر سکیں گے۔

ہنگامی اور کینسر کے علاج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

صوبائی حکومت نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ نئے نظام سے اہم طبی خدمات نجی شعبے کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق ہنگامی طبی خدمات، جان بچانے والے علاج، کینسر کے مریضوں کی نگہداشت اور دیگر اہم طبی سہولیات بدستور سرکاری نظام کے تحت مفت فراہم کی جاتی رہیں گی۔

حکومت نے زور دیا ہے کہ کسی بھی مریض کو طبی طور پر ضروری علاج کے لیے اپنی جیب سے اضافی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی اور تمام بنیادی صحت کی سہولیات کینیڈا کے ہیلتھ ایکٹ کے مطابق دستیاب رہیں گی۔

حکومت کے دعوے: انتظار کی فہرستیں کم ہوں گی

صوبائی وزیرِ صحت اور دیگر حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ البرٹا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سرجریوں کے لیے انتظار کی فہرستیں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ہزاروں مریض کئی ماہ تک آپریشن کے منتظر رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی صحت مزید متاثر ہوتی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈوئل پریکٹس ماڈل سے:

  • سرجریوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
  • مریضوں کے انتظار کا دورانیہ کم ہوگا۔
  • طبی سہولیات تک رسائی بہتر ہوگی۔
  • سرکاری اسپتالوں پر دباؤ کم ہوگا۔
  • ڈاکٹر اپنی مہارت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں گے۔

حکام کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں اس طرز کے ماڈل کامیابی سے چل رہے ہیں اور البرٹا بھی اسی تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

اپوزیشن کی سخت مخالفت

دوسری جانب اپوزیشن جماعت این ڈی پی نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل صحت کے شعبے میں نجکاری کو فروغ دینے کی ایک نئی کوشش ہے۔

این ڈی پی کے مطابق اگر ڈاکٹروں کو نجی شعبے میں زیادہ آمدنی کے مواقع میسر آئیں گے تو وہ سرکاری اسپتالوں میں کم وقت دیں گے، جس کے نتیجے میں عوامی صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ حکومت کو نجی شعبے کو وسعت دینے کے بجائے سرکاری اسپتالوں میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے، نئے ڈاکٹر اور نرسیں بھرتی کرنی چاہئیں اور بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا چاہیے۔

این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ یہ ماڈل مستقبل میں امریکی طرز کے منافع بخش صحت کے نظام کی بنیاد بن سکتا ہے، جہاں علاج کی رفتار اور معیار مالی وسائل پر منحصر ہو جاتا ہے۔

صحت کے شعبے میں نئی بحث کا آغاز

ماہرین کا کہنا ہے کہ البرٹا حکومت کا یہ فیصلہ صوبے میں صحت کے نظام کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے گا۔ ایک طرف حکومت اسے مریضوں کے لیے فائدہ مند اصلاحات قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس سے سرکاری صحت کے نظام کی بنیادیں کمزور ہو سکتی ہیں۔

ستمبر میں اس منصوبے کے نفاذ کے بعد اس کے عملی نتائج پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی۔ اگر حکومت کے دعوے درست ثابت ہوئے تو انتظار کی فہرستوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اگر اپوزیشن کے خدشات حقیقت بن گئے تو البرٹا میں صحت کے نظام کے حوالے سے ایک نئی سیاسی اور عوامی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories