دنیا

بیلجیئم اور ایران کا مقابلہ برابر

📷 Image credit to Social Media

لاس اینجلس میں سنسنی خیز مقابلہ، کوئی ٹیم گول نہ کرسکی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی میں بیلجیئم اور ایران کے درمیان کھیلا جانے والا اہم مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر ختم ہوگیا۔ لاس اینجلس اسٹیڈیم میں ہونے والے اس دلچسپ میچ میں دونوں ٹیموں نے کامیابی کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن شاندار گول کیپنگ اور مضبوط دفاع کے باعث کوئی بھی ٹیم اسکور کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس نتیجے کے بعد دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا جبکہ ورلڈ کپ میں اپنی پہلی فتح کا انتظار بھی برقرار رہا۔

بیلجیئم کا جارحانہ آغاز، ایران نے دفاعی مضبوطی دکھائی

میچ کے آغاز سے ہی بیلجیئم نے گیند پر اپنا کنٹرول قائم رکھا اور مسلسل حملوں کے ذریعے ایرانی دفاع کو آزماتا رہا۔ تجربہ کار مڈفیلڈر کیون ڈی بروئنے نے ابتدائی منٹوں میں ہی ایک طاقتور شاٹ لگایا، تاہم گیند گول پوسٹ سے باہر چلی گئی۔

بیلجیئم کی جانب سے لیانڈرو ٹروسارڈ اور ڈی بروئنے نے مل کر کئی خطرناک مواقع پیدا کیے، لیکن ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام کوششیں ناکام بنادیں۔

ایران کے جوابی حملے اور آف سائیڈ گول کا ڈرامہ

اگرچہ بیلجیئم زیادہ تر وقت گیند اپنے پاس رکھنے میں کامیاب رہا، لیکن ایران نے بھی جوابی حملوں کے ذریعے حریف کو پریشان کیا۔ پہلے ہاف میں بیلجیئم کے دفاع کی ایک غلطی کے بعد حسین کنعانی کو گول کرنے کا سنہری موقع ملا، مگر تھیبو کورٹوا نے شاندار سیو کرکے اپنی ٹیم کو نقصان سے بچالیا۔

ایران کو ایک موقع پر لگا کہ وہ میچ میں برتری حاصل کرچکا ہے جب مہدی طارمی نے گیند جال میں پہنچا دی، لیکن ریفری نے آف سائیڈ قرار دیتے ہوئے گول مسترد کردیا۔ اس فیصلے کے بعد ایرانی کھلاڑیوں میں مایوسی دیکھی گئی، تاہم انہوں نے کھیل کا دباؤ برقرار رکھا۔

پہلے ہاف کا اختتام بغیر کسی گول کے

پہلے ہاف کے اختتام تک دونوں ٹیموں نے چند مزید مواقع پیدا کیے، لیکن دفاعی لائنیں مضبوط رہیں۔ گول کیپرز نے بھی عمدہ کھیل پیش کیا، جس کے باعث 45 منٹ کے اختتام پر اسکور 0-0 رہا۔

دوسرے ہاف میں بیلجیئم کی رفتار تیز

وقفے کے بعد بیلجیئم نے اپنی حکمت عملی مزید جارحانہ بنادی۔ الیکسس سیلیمیکرز اور میکسم ڈی کوپر نے کئی خطرناک حملے کیے اور گول کرنے کی کوشش کی، لیکن علی رضا بیرانوند ایک مرتبہ پھر ناقابلِ عبور ثابت ہوئے۔

دوسری جانب ایران نے بھی حملے جاری رکھے۔ مہدی طارمی کی قیادت میں ایرانی فارورڈز نے بیلجیئم کے دفاع پر دباؤ ڈالا، تاہم تھیبو کورٹوا نے ہر موقع پر مستعدی دکھاتے ہوئے اپنی ٹیم کو محفوظ رکھا۔

ریڈ کارڈ نے میچ کا نقشہ بدل دیا

میچ کا سب سے اہم لمحہ 70ویں منٹ میں آیا جب بیلجیئم کے ڈیفنڈر ناتھن اینگوئے نے ایک غلط بیک پاس دے دیا۔ ایرانی کھلاڑی گول کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اینگوئے نے اسے روکنے کے لیے فاؤل کردیا۔

ریفری نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ناتھن اینگوئے کو سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا، جس کے بعد بیلجیئم کو بقیہ میچ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔ اس فیصلے نے ایران کو حملوں کے مزید مواقع فراہم کیے۔

ایران کا دباؤ، کورٹوا کی شاندار گول کیپنگ

ایک کھلاڑی کی برتری حاصل ہونے کے بعد ایران نے مسلسل حملے کیے اور گول کرنے کے کئی مواقع پیدا کیے۔ مہدی طارمی اور دیگر فارورڈز نے بیلجیئم کے دفاع کو سخت آزمائش میں ڈالا، لیکن تھیبو کورٹوا نے عالمی معیار کی گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر کوشش کو ناکام بنایا۔

میچ کے آخری لمحات میں ایران کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع آیا، مگر شاٹ گول پوسٹ کے اوپر سے گزر گیا۔ اس کے بعد بیلجیئم نے دفاعی انداز اپناتے ہوئے وقت گزارا اور مقابلہ بغیر کسی گول کے اختتام پذیر ہوا۔

گروپ جی میں صورتحال مزید دلچسپ

اس ڈرا کے بعد گروپ جی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ بیلجیئم اور ایران دونوں کے پاس اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس کے لیے آئندہ میچوں میں کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

فٹبال ماہرین کے مطابق اگرچہ میچ میں کوئی گول نہ ہوسکا، لیکن شائقین کو ایک سنسنی خیز اور دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ خاص طور پر علی رضا بیرانوند اور تھیبو کورٹوا کی شاندار گول کیپنگ اس میچ کا نمایاں پہلو رہی۔

شائقین کو سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا

میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کوچز نے اپنی ٹیموں کی دفاعی کارکردگی کو سراہا، تاہم حملہ آور کھلاڑیوں کی جانب سے مواقع ضائع کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ بیلجیئم اور ایران دونوں اب اپنی اگلی ملاقاتوں میں کامیابی حاصل کرکے ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

یوں لاس اینجلس میں کھیلا جانے والا یہ اہم مقابلہ گولوں سے تو خالی رہا، لیکن دفاعی مہارت، گول کیپنگ اور آخری لمحوں تک جاری رہنے والی سنسنی نے اسے ورلڈ کپ 2026 کے یادگار مقابلوں میں شامل کردیا۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories