15 سالہ بھارتی بلے باز کا دھماکہ خیز کھیل، 11 گیندوں پر ففٹی کا نیا عالمی ریکارڈ
دمبولا: بھارت اے کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے بلے باز ویبھو سوریہ ونشی نے ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا اے کے خلاف ایسی شاندار اننگز کھیلی جس نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ صرف 15 سال کی عمر میں انہوں نے لسٹ اے کرکٹ کی تیز ترین نصف سنچری بنا کر 21 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، تاہم وہ تیز ترین سنچری کے مشترکہ ریکارڈ سے محض ایک شاٹ کے فرق سے محروم رہ گئے۔
دمبولا میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں بھارت اے کی جانب سے اوپننگ کرتے ہوئے سوریہ ونشی نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور سری لنکن بولرز کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ انہوں نے صرف 11 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور یوں سری لنکا کے کوشالیہ ویرارتنے کا 2005 میں قائم کیا گیا 12 گیندوں پر نصف سنچری کا ریکارڈ توڑ دیا۔
ابتدائی گیندوں سے ہی طوفانی بیٹنگ
سوریہ ونشی نے اپنی اننگز کا آغاز انتہائی جارحانہ انداز میں کیا۔ ان کی پہلی پانچ گیندوں میں دو چھکے اور تین چوکے شامل تھے، جس سے واضح ہو گیا کہ نوجوان بلے باز بڑے اسکور کے ارادے کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔
انہوں نے سری لنکا اے کے تمام بولرز پر یکساں دباؤ برقرار رکھا اور میدان کے چاروں طرف دلکش شاٹس کھیلے۔ ان کی اننگز میں طاقت اور تکنیک کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا، جبکہ عمدہ گیندوں کو بھی باؤنڈری کے پار پہنچانے کی صلاحیت نے شائقین کرکٹ کو متاثر کیا۔
11 گیندوں پر نصف سنچری، نیا عالمی ریکارڈ
نوجوان بھارتی بلے باز نے اپنی نصف سنچری صرف 11 گیندوں میں مکمل کی۔ اس دوران انہوں نے پانچ چھکے اور پانچ چوکے لگائے۔ تیز رفتار بولر دُلاج سامودیتھا کی گیند پر لگاتار دو شاندار چھکے لگا کر انہوں نے اپنی ففٹی مکمل کی اور نیا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق لسٹ اے کرکٹ میں اس نوعیت کی جارحانہ بیٹنگ انتہائی کم دیکھنے کو ملتی ہے، خاص طور پر کسی ایسے کھلاڑی کی جانب سے جس کی عمر محض 15 برس ہو۔
سنچری کے قریب پہنچ کر بدقسمتی کا شکار
ویبھو سوریہ ونشی اپنی تاریخی اننگز کے دوران سنچری کی جانب تیزی سے بڑھ رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے جیک فریزر میک گرک کے 29 گیندوں پر بنائے گئے تیز ترین لسٹ اے سنچری کے ریکارڈ کی برابری کر لیں گے۔
تاہم نویں اوور میں قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ مڈ آف پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت بھارت اے کا اسکور 132 رنز تھا جبکہ سوریہ ونشی 29 گیندوں پر 94 رنز بنا چکے تھے۔
وہ سنچری سے صرف 6 رنز دور تھے اور اگر ایک مزید بڑا شاٹ لگا لیتے تو ممکنہ طور پر لسٹ اے کرکٹ کی تیز ترین سنچری کے مشترکہ ریکارڈ کے مالک بن سکتے تھے۔
94 رنز کی یادگار اننگز
اپنی 29 گیندوں پر مشتمل اننگز میں سوریہ ونشی نے 10 چوکے اور 8 چھکے لگائے۔ ان کے کئی شاٹس ایسے تھے جنہوں نے میدان میں موجود تماشائیوں کو کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا۔
خصوصی طور پر ایکسٹرا کور کے اوپر لگائے گئے ان کے تین بلند و بالا چھکے اننگز کی نمایاں جھلک قرار دیے جا رہے ہیں۔ ان کی بیٹنگ میں اعتماد، جارحیت اور غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔
لیگ مرحلے میں خاموشی، فائنل میں دھماکہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوریہ ونشی ٹرائی سیریز کے لیگ مرحلے میں کوئی بڑا اسکور بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، لیکن فائنل میں انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ بڑے مواقع پر وہ دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کی اس شاندار اننگز نے نہ صرف بھارت اے کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا بلکہ ایک بار پھر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
بھارت کی قومی ٹیم میں شمولیت متوقع
ویبھو سوریہ ونشی کو حال ہی میں آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے کے لیے بھارتی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ رواں ماہ بھارت کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں بھی ڈیبیو کریں گے۔
ان کی یہ کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت سمجھی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں بھارتی کرکٹ کے بڑے ستاروں میں شمار ہو سکتے ہیں۔
سری لنکا کے خلاف پرانی کشیدگی کا جواب
واضح رہے کہ اسی ٹرائی سیریز کے ایک لیگ میچ میں سوریہ ونشی کو سری لنکا اے کے ایک کھلاڑی کی جانب سے طنزیہ جملوں اور اشتعال انگیزی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
فائنل میں ان کی یہ دھواں دار اننگز بعض مبصرین کے مطابق اسی واقعے کا بہترین جواب ثابت ہوئی، جہاں نوجوان بلے باز نے اپنے بلے سے جواب دیتے ہوئے سری لنکن بولنگ اٹیک کو بے بس کر دیا۔
کرکٹ ماہرین کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین
کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑیوں نے سوریہ ونشی کی اس اننگز کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی کم عمر میں اس درجے کی صلاحیت کا مظاہرہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو ویبھو سوریہ ونشی مستقبل میں عالمی کرکٹ کے بڑے ناموں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
15 سالہ نوجوان کی یہ تاریخی اننگز نہ صرف ٹرائی سیریز کے فائنل کی سب سے بڑی خبر بن گئی بلکہ کرکٹ شائقین کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ ثابت ہوئی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

